تین سوال ۔۔۔ ایک امید

سانحہ راول پنڈی کو ہوئے چند دن گزرے ہیں مگر قلم اٹھانے کی زحمت اب کر رہا ہوں۔ شاید اس لیے کہ ہر رہنما، سیاست دان، عالم دین، حتی کہ سول سوسائٹی بھی مذمتی بیانات کے حصار سے باہر نہیں آ رہیں۔ ان کے ہیجان انگیز بیانوں نے نہ صرف میرے بلکہ قوم کے دل و دماغ میں بھی ہد درجہ بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اس ضمن میں میں تین سوال اٹھانے کی جسارت کروں گا۔

راقم کا پہلا سوال ملک کے حکمرانوں سے ہے- آپ کو ووٹ کس لیے دیے گئے تھے؟ تجربہ کاری کے بلند و بانگ دعوے تو گویا تختِ سلیمانی کو ملکہ بلقیس تک لے جانے کی مانند تھے۔ اسی وجہ سے آپ اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے۔ مگر چند ماہ میں ہی کرپشن، مہنگائی، فرقہ وارانہ فسادات، اور دہشت گردی نے ملک کی حالت ایک راکھ اور دھواں اگلتے آتش فشاں سے بھی بد تر کر دی ہے۔ گمان تو یہ ہونے لگا ہے کہ حکمران تجربہ کار اور عوام تجربہ گاہ ہیں۔ یہ درست ہے کہ تجربہ تعلیم سے آتا ہے مگر وہ علم ہی کیا جو قوم کو نفع کی بجائے نقصان دے۔ جبھی تو ایسے علم سے پناہ مانگنے کی دعا کی گئی ہے

“اللھم انی اعوذ بک من علم لا ینفع”

میرا دوسرا سوال قوم سے ہے۔ انہی سانپوں سے بار بار کیوں ڈسے جاتے ہو؟ تمہارے حکمران کہنے کو تو جمہوری ہیں مگر عرش پر بیٹھے حاکم کو ماننے کی بجائے اپنی کرسی اور ووٹ کی طاقت کو مانتے ہیں۔ اسی قوت کے بل بوتے پر انھوں نے تم لوگوں کو تقسیم کر دیا ہے۔ کوئی پنجابی، کوئی سندھی، کوئی بلوچی، کوئی ہزارہ، کوئی پٹھان، کوئی مہاجر، کوئی اردو سپیکنگ۔ الغرض، تم قوم نہیں، ایک بے ہنگم ہجوم بن گئے ہو اور اندھے دیوانوں کی طرح ان کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہو۔ خدارا، ہوش کے ناخن لو اور ابن خلدون کے الفاظ یاد کرو
“تاریخ میں قومیں جسمانی طور پر شکست تو کھا جاتی ہیں مگر ختم نہیں ہوتیں- البتہ اگر اعصابی شکست سے دو چار ہوجائیں تو صفحہ ہستی سے مٹ جاتی ہیں”

میرا تیسرا سوال اپنے آپ سے ہے۔ میں یہ سب کیوں لکھ رہا ہوں؟ جب قوم ہی نیں مانتی اور ”سب اچھا ہے“ کے تعفن زدہ نعرے لگانے میں ہی خوش ہے تو مجھے اپنا وقت برباد کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ پھر خیال آتا ہے کہ مایوس تو قائدِاعظم علیہ الرحمہ بھی ہوئے تھے مگر علامہ اقبال علیہ الرحمہ نے انھیں مایوسی کے دلدل سے نکال کر امید کے چراغوں میں ایسا غرق کر دیا کہ پاکستان کو دنیا کے نقشے پر ابھار کر چھوڑا۔ آج 66 سال بعد قوم نڈھال ہے، اور اْس اقبال کی تلاش جاری ہے جسے غریب عوام ننھے بچوں کی طرح اپنے دیس کا حال سنانا چاہتی ہے۔ اس ملک کی اور اس کی ملتِ مظلوم کی حالت بلکل ویسی ہوچکی ہے جیسے کے بی بی ہاجرہ (علیہا السلام)  اور ان کے لخت جگر اسماعیل (علیہ السلام) کی۔ مایوسیوں کے صحرا میں ایڑھیاں رگڑتی عوام کسی معجزے کی منتظر ہے۔ زمین کے ناخداؤں سے امید لگا کر تو دیکھ لیا اور کہہ بھی گئے کہ کوئی امید بر نہیں آتی۔ اب وقت ہے کہ عرش والے کو بھی یاد کیا جائے کیونکہ اسکے منشور میں لکھا ہے ”اِنٌی قریب“۔ شاید اْس سے رجوع کرنے سے ہمارے مسائل حل ہو جائیں۔

Advertisements

بلا موضوع

ویسے تو مابدولت اردو میں خط و کتابت  زمانہِ طالب علمی سے کرتے رہے ہیں مگر عرصہ ١٣ برس سے اپنی ہی زبان میں کچھ لکھا نہیں- انگریزی کا طوق گردن پر اس طرح براجمان تھا کہ گمان ہوتا تھا کہ شاید پیدا ہی انگریز ہوئے ہیں اور یہی زبان بولتے بولتے اس دنیا سے رخصت ہو جائیں گے- ایک زمانے بعد احساس ہوا کہ اپنی ایک زبان ہے جس کا نام ہے اردو اور بقولِ داغ کہ سارے جہاں میں دھوم اِس زباں کی ہے- سوچتا ہوں اگر اتنی ہی دھوم تھی تو اردو میں لکھنے کا جلد خیال کیوں نہ آیا؟ اور آیا بھی تو عرصہ دراز کے بعد- جب لکھنے بیٹھا تو سمجھ میں نہ آئے کہ موضوع کیا ہو؟ یہ سوچتے ہوئے رات آدھی بیت گئی اور باقی ماندہ شب پورتو ریکو  کے مایہ ناز گلوکار یاندیل  کے نئے گانے استا آباہو اور دیگر دوسرے نغموں پر احمقوں کی طرح گردن ہلاتے ہوئے گزر گئی- دن جب روشن ہوا تو سوچا کہ آج اپنی زبان میں کچھ لکھ ہی دیا جائے- لہذا جو سمجھ میں آیا، رقم کر دیا- اس وقت ذہن اور پیٹ دونوں خالی ہیں- اپنے نار شکم کو بجھانے اور کسی دوسرے موضوع پر قلم آزمائی کرنے میں کچھ وقت لگے گا- تب تک آپ میرے بدذوق آرٹیکل کو پڑھئیے اور اصلاح کا مشورہ دیجئیے-

A letter to a disrespecful woman

Since I am a novice in dissertation, I am trying to write on a different topic; A break up. The following is a letter to a woman (name withheld) who doesnt have respect for anybody but expects to be respected and honored.
_________________________________________________

I begin With The Name of Allah, The Compassionate, The Merciful

Assalamoalaikum __________! Hope this letter finds u in the best of ur health and happiness. This is the last time i’ll ever get in contact with you. But before saying good bye, let me get a few things clear.

I have a habit; I like to play mind games. I play it occasionally, but only with those who I like. When I told you that I wanted to take things slow so we could get to know each other more, your behavior and temper was exactly what I wanted to know. I kept changing my stance ON PURPOSE, just to see how you would react. Each time you became upset, you proved your own statement correct that you’re not worthy of being around people. Dummy me, I tried my best to bring a little behavioral change in you but failed miserably. It is a lesson that I learned quite well.

__________! You are an awesome person (despite what I said above) but it just so happens that you have an anger problem. Yesterday, in a moment of belligerence, you lost your sanity and forgot whats coming out of your mouth. Despite our differences, you absolutely had no right to insult my Mother by saying
تمہاری ماں کی تربیت بات کر رہی ہے
NO, NO, NO, its not the nurturing of my mother that was reflecting. Rather it was a reaction to ur angry childish behavior. My Mother always taught me how to respect but at the same time she reminded me that to some people, esteem is too much to handle, so putting them back in their place is the best thing to do. It doesnt matter if its a man or a woman. All i did was react to ur angry statements and said
بکواس مت کر، بہت دیکھے تجھ جیسے
And you brought my Mother in the conversation as if she was the one behind our argument. That was extremely disrespectful. Your act was uncalled for and for that YOU OWE ME an APOLOGY. I can NEVER and will NEVER EVER think about saying anything bad about your Mother. I equally respect her like my own Mother.

Your disgustingly foul and contemptibly offensive words about My Mother made me lose all the respect for you. I’ll NEVER FORGIVE YOU. You claim to pray 5 times a day. A person that devoutly prayerful will never disrespect a Mother, even if they are angry.

In the past month and a half that you have known me, you know I like to laugh and be goofy. Even in tense situations, I find a little humor to be very useful. To you, that is childish behavior but I consider it a way to maintain my sanity. You make the words of George Eliot absolutely true;
“A difference of taste in jokes is a great strain on the affections”.

I hope my prolonged and monotonous letter will make u think about your pigsty attitude. I will not pray for you because a woman disrespecting My Mother deserves anything but prayers.
میری ماں کے بارے میں غلط زبان استعمال کرنے والی عورت دعا کی مستحق نہیں

Wassalamoalaikum.