سندھ فیسٹیول، مذاق یا سبق

Sindh Festival

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کافی دنوں سے “سندھ فیسٹیول” کا چرچا ٹیلی ویژن اور سماجی روابط کے مقامات پر ہو رہا تھا۔ اس ضمن میں کی گئی تیاریاں اور موہنجوڈارو کو پہنچایا گیا ناقابل تلافی نقصان کسی سے ڈھکا چھپا نہیں۔ میلے کے نام پر کیےگئے اس بھونڈے مذاق نے نام نہاد سندھیوں کی پاکستان سے نفرت کا کھلا ثبوت دے دیا ہے۔

کھنڈرات پر میلہ سجانے کا شرف جدید تاریخ میں بلاول زرداری کے سر جائے گا۔ میلہ لگانا ہی تھا تو تاریخ کی باقیات سے دور لگایا ہوتا۔ مگر شاید یہ خیالِ خام اس ملبے کی طرح ہے جو صدیوں سے تصاویر کی زینت تو ہے مگر عدم توجہی کا شکار بھی۔ ارے میرے “مبینہ” سندھی بھائی! اتنا تو سوچا ہوتا کہ تاریخ کو اجاڑ دو گے تو تمہاری شناخت کہاں باقی رہے گی؟ مگر پھر خیال آتا ہے کہ جس طرح مسٹر زرداری نے “پاکستان کھپے” کے نام پر ملک کو کھنڈرات بنا دیا، اسی طرح ان کے سپوت نے “سندھ فیسٹیول” کے نام پر صوبے کی نوادرات کو برباد کر دیا۔ لایک فادر، لایک سن۔

میں خود سندھی تو نہیں بولتا مگر اتنا جانتا ہوں کہ سندھی کوئی کمزور زبان نہیں ہے کہ “فیسٹیول” کا ترجمہ نہ کرسکے۔ اگر “سندھ فیسٹیول” کی جگہ “سندھ میلو” نام رکھ دیا جاتا تو حرج ہی کیا تھا۔ مگر فرزندِ فرہنگ نے نام رکھا بھی تو انگریزی میں۔ یہی نام فیس بوک اور ٹویٹر پر بھی نظر آیا۔ ستم تو یہ کہ ایک ٹویٹ بھی سندھی میں نظر نہیں آئی۔ اور پھر جلتی پر تیل کا کام ایاز پلیجو اور قادر مگسی جیسے قوم پرستوں نے کر دیا۔ سندھ میلے پر احتجاج تو درکنار، اس کے خلاف ایک اعلامیہ جاری کرنا بھی کسرِ شان سمجھا۔ آفرین ہے ان لوگوں پر جو سندھ کا دم تو بھرتے ہیں مگر موہنجوڈارو کے کھنڈراتوں میں میلے سجانے پر زبان تک نہیں کھولتے۔

سندھ میلے کے پہلے ہی دن کچھ نظارے (میڈیا کی مہربانی سے) دیکھنے کو ملے۔ گلوکارہ عینی کے چہرے پر بوسہ دیے جانے کی جھلک اور  نیم برہنہ خواتین کا رقص دیکھ کر قدیم مصری تہذیب کا گمان ہونے لگا۔ پھر یہ بھی پتہ چلا کہ کسی بھی سندھی گلوکار کو بلایا نہیں گیا۔ عابدہ پروین، شازیہ خشک، طاہر مٹھو اور صنم ماروی جیسے بہترین گلوکاروں کو شرکت کا موقع نہیں دیا گیا۔ سونے پر سہاگا یہ کہ استاد محمد جمن، الن فقیر اور سرمد سندھی جیسے بہترین فنکاروں کو خراجِ عقیدت تک پیش نہیں کیا گیا۔ پھر ذہن میں ایک جواب آیا کہ یہ “سندھ فیسٹیول” ہے، “سندھ میلو” نہیں جس میں شاہ عبد اللطیف بھٹائی کے “شاہ جو رسالو” کو پڑھا جاتا یا عبد الوہاب فاروقی کی “سچل جو رسالو” کو یاد کیا جاتا جس کی وجہ سے تاریخ ان کو “سچل سرمست” کے نام سے جانتی ہے۔ یہ باتیں وہ ہیں جو ان کے ذہنوں میں آتی ہیں جنہیں اپنے ملک میں رہ کر لوگوں کی خدمت کرنا ہوتی ہے۔ مگر ہمارے نصیب ہی ایسے ہیں کہ سندھ میلے کے مہتمم، قوم کے پیسے مالِ مفت سمجھ کر مغرب کے محلوں میں ننگی محافل اور شراب و کباب میں اڑاتے ہیں۔ ایسے میں قوم کو جمہوریت کا سبق دینا منافقت نہیں تو کیا ہے؟

اپنے نام نہاد سندھی بھائیوں سے ایک مؤدبانہ گزارش کروں گا کہ ذرا سندھ کے دیہاتوں کی غربت کو سرسری نگاہ سے دیکھیں۔ آپ کی گڈ گورنینس کے سارے دعوے دھرے کے دھرے ہیں۔ غریب کے  گھر دوا نہیں مگر آپ کے بیرون ملک ہسپتالوں کا خرچہ وہ برداشت کررہا ہے۔ اس گے گھر کا چولہا جلتا نہیں اور آپ کا بجھتا نہیں۔ عوام آپ کی بے حال اور آپ لے اڑے سارا مال۔ غریب مرگیا مگر نعرہ ہے کہ بھٹو زندہ ہے۔ اس نعرے کے پیچھے ایک تلخ حقیقت ہے وہ یہ کہ جب بھٹو صاحب غریب کو روٹی، کپڑا اور مکان نہ دے سکے تو ان کی پارٹی یہ وعدہ کیسے پورا کرے؟

میں میلوں کے خلاف بالکل نہیں مگر میلے اچھے اس وقت لگتے ہیں جب غریب کے پاس اتنی روٹی ہو جتنی بلاولِ وقت کے پاس۔ اور اگر غریبوں کا درد رکھنے والی جماعت (خواہ کوئی بھی ہو)  ان کی داد رسی کرنے میں ناکام ہوجائے تو پھر قہرِ الہی کا انتظار کرے جس نے نوح (علیہ السلام) کے جگر گوشے کو پہاڑوں کی بلندی پر بھی نہیں بخشا۔

———————————————————————————–

ٹویٹر پر اتباع کریں

@periqlytos

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s