سانحہ کراچی ایئرپورٹ اور پاکستانی جمہوریت

بسم اللہ الرحمن الرحیم

آج عرصہ 4 ماہ کے بعد قلم اٹھانے کا موقع ملا۔ ایک ہی موضوع ذہن میں آیا، وہ تھا سانحہ کراچی ایئرپورٹ۔ جس جرات مندانہ انداز میں ای ایس آئی، رینجرز اور پاک فوج کے جوانوں نے دہشت گردوں کا مقابلہ کیا، اس نے پوری دنیا پر یہ بات آشکار کردی کہ ہم سے بلاوجہ ٹکر لے کر کوئی بچ نہیں سکتا۔

راقم کے پاس کچھ کہنے کے لیے سخت سوال ہیں جن کے جواب پاکستان کی مبینہ جمہوری حکومت ہی دے سکتی ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ شمالی وزیرستان کے علاقے میں فوجی آپریشن کا رد عمل آسکتا ہے، سیکیورٹی کا مناسب سدباب کیوں نہیں کیا گیا؟ صرف اسلام آباد کو ہی حساس کیوں قرار دیا گیا۔ سندھ کی حکومت کو انٹیلی جنس نے بتا دیا تھا کہ کراچی ایرپورٹ پر حملہ ہوسکتا ہے مگر مجرے، شراب اور کباب کے مزے لینے والوں کو یہ بات کہاں سنائی دیتی۔ جس صوبے کا وزیر اعلی سہ پہر کو اٹھتا ہو اور شراب کے نشے میں دھت ہوکے سوتا ہو، اسے بھلا کیا پرواہ کہ اس کے صوبے میں کیا ہو رہا ہے۔ ارے تھر میں 300 بچہ مرگیا اور اس کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ آپ کے خیال میں وہ کراچی ایرپورٹ کو سنبھالے گا؟ کیا ایسے قبیح اور غبی انسان اور اس کی قیادت کو یہ پتہ ہے کہ ففتھ جینیریشن وار کسے کہتے ہیں؟ یہ وہ جنگ ہے جس میں ملکوں کو اندرونی خلفشار میں الجھا دیا جاتا ہے جس سے وہ کمزور ہو کر ٹوٹ جاتے ہیں۔ یوگوسلاویا کی مثال ہمارے سامنے ہے جو چند سال میں ٹوٹ کر کئی ریاستوں میں بدل گیا۔ مگر نصیب ہیں بھٹو کی روحانی اولادوں کے، جنھیں اپنے لیڈر کا 36 سال پہلے پھانسی کر جھول جانے کا غم تو یاد ہے مگر وہ عوام جو 65 سال سے غربت، افلاس، بھوک و ننگ کے چٹختے تختوں پر اپنی اکھڑتی سانسیں گن رہی ہے، اس کا کچھ خیال نہیں۔ پھر جب گورننس کا سوال کیا جائے تو الزام سیدھا ڈکٹیٹرشب کو دیا جاتا ہے۔ 18ویں ترمیم کے بعد تمام فنڈز اپنی جیبوں میں بھر لیے گئے اور عوام کو جیتے جی دہشت گردوں کے رحم و کرم پر سسکتا چھوڑ دیا گیا۔

اب بات کرتے ہیں ایم کیو ایم کی جس کے لوگ شہر کے 85 فیصد مینڈیت کا دعوی کرتے ہیں۔ صوبے میں گورنر بھی ان کا مگر نسل پرستی کی شکایت بھی۔ یہ بھی سانحہ کراچی کے اتنے ہی ذمہ دار ہیں جتنا ٹی ٹی پی اور پی پی پی ہیں۔ سانحہ کراچی ایرپورٹ سے ایک بات یہ بھی سامنے آگئی کہ متحدہ کو شہر سے زیادہ اپنا قائد عزیز ہے لہذا انہوں نے الطاف حسین کی گرفتاری پر کراچی شہر ہی بند کرا دیا۔ یہ تو شکر ہے کہ ایرپورٹ پر حملہ شہر بند ہوتے ہوئے نہیں ہوا ورنہ اپنی سیاسی موت آپ ہی مر جاتے۔

اب سے کچھ دیر پہلے سوشل میڈیا کے ذریعے پتہ چلا کہ کچھ لوگ ایرپورٹ کے کولڈ سٹوریج میں محصور ہیں۔ ذمہ داران کا تو پتہ نہیں مگر محصور کے رشتہ داران شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ اپنی مدد آپ کے تحت انہیں باہر نکالنے کی کوشش میں ہیں۔ تف ہے ایسی حکومت پر جو اپنے ہی لوگوں کو روتا اور مرتا چھوڑ دے۔ مگر پاک فوج کے جوانوں کو سلام جو پھر مدد کو آرہے ہیں۔ امید یہی ہے کہ محصور لوگ، شیزان، نبیل، فرید، سیف، سلطان، فرحان اور عناہیت زندہ سلامت ہوں۔ انہیں اگر خدا نخواستہ کچھ ہوگیا تو قتل بالعمد کا مقدمہ صوبائی اور وفاقی حکومت پر بننا چاہئیے۔

میں ایک جمہوریت پسند انسان ہوں جس میں انسانوں کی بنیادی ضرورتیں پوری ہوں اور ان کی جان و مال کی حفاظت حکومت وقت اپنے کندھوں پر اٹھائے۔ اس کام میں ناکامی بسا اوقات ایسی کلہاڑی بن جاتی ہے جو حکومت کے پاؤں کاٹ دیتی ہے۔ یاد دہانی کے لیے مئی 2013 کے الیکشن کافی ہیں۔ سانحہ کراچی کو دیکھتے ہوئے مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اب کی بار عوام فیصلہ اپنے ہاتھوں میں لے لیں۔

——————————————————————————————————————————–

 

ٹویٹر پر اتباع کریں @periqlytos۔

 

 

 

 

Advertisements

One thought on “سانحہ کراچی ایئرپورٹ اور پاکستانی جمہوریت

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s