انقلابِ قادری اور تاریخ کی تصحیح

بسم اللہ الرحمن الرحیم

آج کل آزادی مارچ اور انقلاب مارچ کا چرچا پاکستان اور اس کے میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے۔ اس پر بہت کچھ لکھا اور بولا بھی گیا ہے مگر دنیا نیوز کے مایہ ناز صحافی اجمل جامی صاحب کے آرٹیکل نے مجھ ان پڑھ کو قلم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ (اس کا لنک میرے تبصرے کے آخر میں ہے)۔ میرا رد عمل پیش خدمت ہے۔

کہتے ہیں “یہ نہ دیکھو کہ بات کس نے کی ہے، یہ دیکھو کہ بات کی کیا گئی ہے”۔ ڈاکٹر طاہر القادری سے لاکھ اختلاف سہی، مگر ان کی بات میں سچائی ہے۔ آئین اور قانون کے اندر رہ کر انقلاب کی بات کرتے ہیں۔ اور کس انقلاب کی۔ جس میں امیر اور غریب کا فرق مٹے، ہر ایک کو تعلیم اور مظلوم کو فوری انصاف ملے۔ مگر ناقدین ان کے حلیے اور فصاحتِ کلام کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں ایک ملا سے اوپر کا درجہ نہیں دیتے۔

جناب! مانا کہ علامہ صاحب آج کل ائیر کنڈیشن کنٹینر میں رہتے ہیں اور کارکنوں کو کھلے آسمان تلے چھوڑا ہوا ہے مگر کیا ڈاکٹر قادری کو 30 سال میں کرپشن کرتے دیکھا گیا؟ اس کا سادہ جواب نفی میں ہے۔ 2 ہفتے پہلے علامہ صاحب پر ایف آئی اے نے کرپشن کا کیس کھولا مگر کچھ بھی نہ نکلا۔ کیا میں ان کا موازنہ “جمہوریت پسند” لوگوں سے کروں جو عوام کے ٹیکس کا پیسہ، بلیٹ پروف گاڑیاں، سٹیٹ سیکیورٹی اور ریاستی مشینری کا استعمال اپنا فطری حق سمجھ کر کرتے ہیں؟ جن کی اولادیں ریاست کی عمارتوں میں عوام کے مسائل کی بجائے شادی بیاہ کی تقریبات منعقد کرتی ہیں۔ جو سر درد کی دوائی سے لے کر معمولی زخم کی آئینٹ منٹ تک پاکستان سے لینا کسر شان سمجھتے ہیں۔ ان سے موازنہ کروں؟ سیاست دان جمہوریت کے نام پر قوم کی غربت کا مذاق اڑا کر اسے مقروض کرکے ایسے نگل گئے کہ جمہوریت گالی بن گئی۔ جس آئین کی برکتوں سے طاقت میں آئے، اس کے ان حصوں پر عمل کیا، جس سے ان کے اقتدار کو دوام ملا۔ اسی آئین کا سہارا لیتے ہوئے لانگ مارچ ہوئے اور حکومتیں گرائی گئیں۔ اگر وہ سب آئینی ہے، تو ڈاکٹر قادری کا انقلاب مارچ بھی اتنا ہی آئینی ہے جس میں وہ پورے آئین کو اِن لیٹر اینڈ سپیریٹ نافذ کرنا چاہتے ہیں۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ زندگی معطل ہوگئی تو ان کی خدمت میں عرض کردوں کہ حکومت کی معطلی کی نشانی غربت، مہنگائی، کرپشن، افراطِ زر اور دہشت گردی ہے جس نے عوام کی زندگی پہلے ہی اجیرن کردی ہے۔ کس منہ سے معطلی کی بات کرتے ہیں؟

کچھ بے خبر اور غافل ڈاکٹر قادری کو پرویز مشرف کے ریفرینڈم کا حصہ ہونے کا طعنہ دیتے ہیں۔ ان لا علموں کی خدمت میں راقم کی عرض ہے کہ ڈاکٹر صاحب یہ سمجھے تھے کہ آئین کی رو سے سب کا احتساب ہوگا تاکہ ملک میں حالات بہتر ہوں اور ترقی کا راستہ سنور جائے۔ مگر ایسا نہ ہوسکا۔ جس کی وجہ سے انہوں نے استعفی دے دیا۔ یہ بات غور طلب ہے کہ حکومت کوئی بھی ہو، اگر اپنا وعدہ پورا نہ کرسکے تو مستعفی ہوجائے اور یہی کام علامہ صاحب نے اپنی ذاتی حیثیت میں کیا۔

تاریخ کی تصحیح علم کے پھیلاؤ کے لیے ضروری ہے۔ جامی صاحب نے آرٹیکل میں ولیم کروم ویل کا ذکر کیا ہے۔ وہ شخص دراصل آلیور کروم ویل ہے۔ جس نے رمپ پارلیمنٹ بنائی تھی۔ یہ وہ پارلیمنٹ ہے جو کچھ ممبرز کے مستعفی ہونے کے بعد رہ جاتی ہے۔ پاکستان کے پس منظر میں رمپ پارلیمیمنٹ وہ ہے جو تحریک انصاف کے مستعفی ہونے کے بعد رہ جاتی ہے۔ آلیور کروم ویل نے بزور طاقت 20 اپریل 1653 کو اس پارلیمنٹ کو تحلیل کر کے نئی پارلیمنٹ تشکیل دی جس کا نام بیئر بونز پارلیمنٹ رکھا گیا جس کا مقصد ایک نئی اور مستحکم حکومت بنانا تھا۔ تاہم آلی ور کی موت کے بعد جب شاہی دور واپس آیا تو اسکی لاش کو ویسٹ منسٹر ایبے کی قبر سے نکال کر زنجیروں میں جکڑا گیا اور پھر اس کا سر قلم کر دیا گیا۔ جو تصحیح مقصود ہے وہ یہ کہ ڈاکٹر طاہر القادری کی عوامی پارلیمنٹ رمپ پارلیمنٹ نہیں بلکہ بیئر بونز پارلیمنٹ ہے۔ رہی بات ڈاکٹر صاحب کے عوامی انقلاب کی، تو وہ تاریخ میں سنہرے الفاظ میں لکھے جانے کی مستحق ہے کیونکہ اس کی بات وہ گزشتہ 30 سال سے کر رہے ہیں اور اب انہوں نے اس کی طرف عملی قدم بڑھایا ہے۔

تمام سسٹمز کو آزما کر دیکھا گیا ہے۔ ایک مرتبہ ڈاکٹر قادری کے سسٹم کو بھی آزمایا جائے اور اگر وہ کام نہ کرے تو اسے دیوار پر مار کر دوسرے سسٹم کو لایا جائے جو عوام کے مسائل حل کرکے ملک کو ترقی کی پٹڑی پر ڈال دے تاکہ اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کیا جائے۔

مندرجہ ذیل ٹویٹر ہینڈل پر اتباع کریں

@periqlytos

پس تحریر: جس آرٹیکل کا اشارہ میں نے ابتدائیہ میں دیا، اس کا لنک یہ ہے۔

 

http://bit.ly/1tqW3S0

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s