کراچی، تهر، نیلوفر اور پنج نسلی جنگ

بسم الله الرحمن الرحیم

آج کل متحدہ قومی موومنٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان الفاظ و الزامات کی آنکھ مچولی جاری ہے- ماضی  میں اتحاد اور مفاهمت کی سیاست کرنے والی جماعتیں آج بدترین حلیف بن چکی ہیں- خورشید شاہ کے احمقانہ بیان اور بلاول زرداری کی طفلانہ سیاست نے حالات کو ایک سنگین موڑ پر کهڑا کر دیا ہے- یہ سب کچھ اس وقت ہو رہا ہے جب تهر بهوک سے نڈهال اور پیاس سے بے حال ہے- نیلوفر سر پر کهڑی ہے اور حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے برابر ہیں- مزید ستم یہ کہ پنج نسلی جنگ (ففتھ جینیریشن وار) بری طرح اپنے پنجے گاڑ چکی ہے۔

راقم ایک بات کہنے کی جسارت کرے گا- متحدہ تقریبا 30 سال سے کراچی کے اقتدار پر قابض ہے مگر شکوہ نسل پرستی کا کرتی رہی ہے- جب یہ جماعت بنی تهی تو نعرہ مہاجر کا لگایا اور 30 سال حکمرانی کے مزے لوٹنے کے بعد بهی وہی رونا- شہر کے بڑے بڑے عہدے اس جماعت کے پاس مگر عدم وفا کی شکایتیں عروج پر- اپنے اتحادیوں پی پی پی اور اے این پی سے اختلافات کو جمہوریت کا حسن قرار دیا- نتیجہ، کراچی 11000 لاشوں کی صورت میں مفاہمت کی نذر ہوا اور سنده بهٹو کی- یہ اس لیے کہا کہ بهٹو کے نام کا ووٹ لے کر میرے سندهی بهائیوں کو بهوکا اور پیاسا رکها گیا- صرف تهر کی مثال لیں، جہاں کے باسی، روٹی کے لقمے اور صاف پانی کی بوندوں کو ترستے ایڑهیاں رگڑ رگڑ کر مرتے رہے مگر زہے نصیب ہیں پی پی کے جو اپنے کهوکهلے نعروں سے 35 سال پہلے مرے ہوئے بهٹو کو زندہ کرتے رہے- یہ تو میڈیا کی مہربانی ہے کہ حالات کا پتہ چل گیا ورنہ اندرون سنده پی پی اور متحدہ کی سیاست کی نذر ہو کر بهسم ہو چکا ہوتا۔

اپنی شرمناک حد تک غلاظت سے بهرپور گوورننس کی خفت سے توجہ ہٹانے کے لیے خورشید شاہ نے متحدہ پر مہاجر ہونے کی طعنہ زنی کی اور متحدہ، بغیر سوچے سمجهے نسل پرستی کے تعفن زدہ جوہڑ میں کود گئی- ہجرت کے اصل مطلب کو سمجهنے کے لیے قرآن اور سیرت النبی (ص) کا دقیق نظری اور باریک بینی سے مطالعہ کرنا پڑتا ہے- قرآن سے مثال دیتا ہوں کہ اصحاب کہف نے ہجرت اپنے ایمان کے تحفظ کے لیے کی تهی، اپنے تشخص کو برقرار رکهنے کے لیے نہیں- اسی طرح نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی طرف ہجرت اللہ کے دین کے لیے کی تهی، بنو ہاشم کا کام اونچا کرنے کے لیے نہیں- میں تمام اہل فکر و فراست سے سوال کرتا ہوں کہ کیا متحدہ کی سیاست مندجہ بالا مثالوں سے مطابقت رکهتی ہے؟ اگر نہیں تو 30 سال بعد اپنی سیاست کو مذہبی رنگ کیوں دے رہی ہے؟ جواب قدرے آسان ہے- چونکہ کراچی کو حقیقی ترقی نہیں دی گئی اور اپنی سیاست دوسرے شہروں میں پهیلانے میں ناکامی ہوئی لہذا “نعرہ مستانہ” لگانا ہی پڑا- متحدہ سے عرض ہے کہ یہ 2014 ہے، 80 کی دہائی نہیں کہ دال گل جائے- مگر اپنی بات منوانے کے لیے جس حد تک جانا پڑا، متحدہ ضرور جائے گی- اس کا عندیہ خالد مقبول صدیقی صاحب دے چکے ہیں۔

مہاجر صوبے کا نعرہ لگانا، لندن میں الطاف حسین پر کیسز کا ختم ہونا، پی پی اور متحدہ کے اختلافات اور سنده قوم پرست جماعتوں کا پی پی کی سپورٹ کو اینڈ گیم اور پنج نسلی جنگ کے تناظر میں رکھ کر دیکهیں- تصویر بہت خوفناک ہے- کراچی میں اور بهی متحارب دهڑے ہیں اور ان کے لوگ عام آبادی میں رہتے ہیں جو میرے نزدیک خطرے کی گهنٹی ہے- شہر کے حالات دیکھ کر لگتا ہے کہ میدان جنگ سج رہا ہے- عوام میں ایک خاموش بے چینی اور خوف و ہراس ہے مگر حکمران لوگوں کو جموریت کی تهپکیاں دے کر سلانے میں مگن ہیں۔

ہمیں اپنے آپ کو جگانا ہوگا، خطرات کو محسوس کرنا ہوگا- صاحب اقتدار لوگوں کو حالات کی نزاکت سے آگاہ کرنا ہوگا- اگر دیر کر دی تو 1258 میں سقوط بغداد کا قصہ ہمارے ساتھ بهی نہ ہو جائے- تب نہ جمہوریت کام آئے گی، نہ آمریت- نہ علم ساتھ دے گا اور نہ ہی روشن خیالی- ہر سو آنسو ہونگے جنہیں صاف کرنے والا کوئی نہ ہوگا- رب ذو الجلال سے دعا ہے کہ وہ پیارے پاکستان پر اپنی رحمتوں کی بارش کرے، اس کے باسیوں کی لغزشوں کو معاف کرے اور اسے ہر مصیبت سے نجات دلا کر ہر آزمائش میں سرخرو کرے- آمین۔

————————–

ٹویٹر پر اتباع کیجئیے
@periqlytos

Advertisements

3 thoughts on “کراچی، تهر، نیلوفر اور پنج نسلی جنگ

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s