پاکستانی جمہوریت ۔۔۔ ایک پر تعیش انتقام

بسم اللہ الرحمن الرحیم

پاکستان ہمارا ملک اور جمہوریت اس کی خوبصورتی ہے۔ جب سے اس طرز حکومت نے اپنی شان دکھائی ہے، اس اسلوب حکمرانی کی عظمت و کبریائی بیان کرتے ہوئے دل باغ باغ اور سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ جھولی پھیلا کر دعا رہتی ہے کہ پاکستانی جمہوریت پھلے پھولے اور اس کے پروان چرھانے والوں کو فرعون کے درجے نصیب ہوں۔ گِلہ ما بدولت کو پاکستانیوں سے ہے جو ہمیشہ کی طرح ناشکرے واقع ہوئے ہیں۔ اتنا کچھ ملنے کے باوجود قناعت پسندی اور توکل دوستی کی بجائے کفران جمہوریت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

دیکھئیے جناب! ملک میں جمہوریت لانے والے آپ اور مجھ جیسے گناہ کار تھے؟ نہیں۔ بلکہ یہ وہ اعلی ہستیاں ہیں جنہوں نے میثاق جمہوریت کی چادر زیب تن کی، واشنگٹن کا طواف کرکے این آر او کی گنگا میں غسل کیا۔ ہم تو شاید ان کی خاک کے برابر تو کیا، ان کی کاوشوں کا صدیوں تک ادراک بھی نہیں کر سکتے۔ آئین کی بحالی کیا ہوئی، زندگیوں میں تو رس ہی گھل گیا۔ بجلی اتنی ملی کہ راجہ پرویز اشرف نے نہ صرف لندن میں کْٹیا خریدی بلکہ پاکستان میں ہر گھر کو میڈیا ہاوس میں بدل کر اس کے مکینوں کو ایکزیکیوٹیو وائس پریزیڈنٹ لگا دیا۔ یہ بلکل جھوٹ ہے کہ بائیس بائیس گھنٹے بجلی نہیں آتی۔ بجلی ہے۔ اگر لوگوں کو نظر نہ آئے تو سیاست دانوں کا کیا قصور۔ پاکستانیو! تمہیں چوں چاں کرنے کی عادت ہے۔ کوئی ڈھنگ کا کام سیکھو۔ ہر وقت بولا مت کرو۔

ٹینا ثانی کا گانا تھا “کوئی بات کرو”۔ تو چلو! بات کرتے ہیں اناج کی۔ اسکی اتنی فراوانی ہے کہ لوگ سیر شکم ہونے کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ ہر گھر میں آٹے، دال اور چاول کی بہتات نے تھر میں قحط کو کذب و خرافات کی عملی شکل قرار دے دیا ہے۔ میڈیا کو عراق میں وسیع پیمانے پر تباہی کے ہتھیار تو مل نہ سکے، تھر کی غربت کیسے مل گئی؟ میڈیا کیا جانے کہ تھر کے لوگ غربت پسند ہیں اور افلاس و افتقار ان کا فخر ہے۔ بس خواہ مخواہ ریٹنگز اور سنسنی پھلانے کی غرض سے بغیر تصدیق کے خبر چلا دیتے ہیں۔ قائم علی شاہ مدظلہ فرماتے ہیں کہ “تھر میں بچے بھوک سے نہیں، غربت سے مرے ہیں”۔ دراصل، ان کا مطلب یہ ہے کہ تنگی و محتاجی صرف جمہوریت سے حل ہوتے ہیں، خوراک سے نہیں۔ تھر کے لوگوں کو کیا معلوم کہ “بھٹو زندہ ہے” جیسے شبدوں کا وزن کروڑوں کیلوریز کے برابر ہے۔ یہ الفاظ روٹی سے تو نہیں، البتہ قبر کی مٹی سے پیٹ ضرور بھر سکتے ہیں۔ جب ریت نارِ شکم بجھا رہی ہے تو شکایت کیوں؟ تھر کے لوگوں کو چاہئیے کہ پاکستانی جمہوریت کا انکار کرکے احسان فراموش مت ہوں۔

اب کچھ بات صحت کی ہوجائے۔ بقول غالب کہ “تندرستی ہزار نعمت ہے”۔ انہوں نے یہ بات نشے میں کہی تھی اور چونکہ شراب ام الخبائث ہے، وہ اس چیز کو سمجھنے سے قاصر رہے کہ پاکستانی غریب کا علاج جمہوری ٹیکوں میں پنہاں ہے چاہے وہ معاشی صورت میں لگے یا دوائیں منڈی سے غائب کرنے کی صورت میں۔ ہسپتال بهلے ہی ابلتے گٹروں کا منظر پیش کرتے رہیں، بس “آئین” کی جھلک سے میعاد ختم ہونے والی تمام دوائیں جمہوری ہو جائیں گی۔ یہ بات قابل غور ہے کہ قوم کی خیرات پر پلنے والے سیاست دان بیرون ملک علاج کے بعد بھی جمہوری رہتے ہیں اور عوام جمہوری ٹیکوں کے لگنے کے باوجود بھی غیر جمہوری۔ خیر۔ علاج، علاج ہوتا ہے، جمہوری ہو یا غیر جمہوری۔ اچھی صحت پر صدر پاکستان کی “ممنونیت” کا اعتراف کرکے جمہوریت کو دوام بخشیں۔

اب رخ کرتے ہیں گورننس کی۔ یہ ایک ایسی سادگی کا نام ہے جس پر کون نہ مرجائے اے خدا۔ اس پر بھی جمہوریت نے ڈیرے اور ڈورے ڈالے ہوئے ہیں۔ تمام جماعتوں کی پرفارمنس ایسی کہ بیان کرتے ہوئے دل سے لڈو پھوٹیں۔ کوئی سانحہ اٹھائیں۔ نشانہ وار قتل (ٹارگیٹ کلنگ) فرقہ وارانہ فسادات، لسانی دہشت گردی، ماڈل ٹاون کا سانحہ، آزادی اور انقلاب مارچ پر فائرنگ، معزور لوگوں پر تشدد، کم سن بچوں پر لاٹھی چارج، اور حالیہ دنوں میں پیٹرول کا بحران۔ سب عوام کا قصور ہے۔  عوام جمہوری کاموں میں (بقول نجم سیٹھی کے) انگلی کرتے ہیں، تو پھر خمیازے بھی بھگتنے پڑتے ہیں۔ رعایا کی یہ مجال کہ جمہوریت کی راہ میں رکاوٹیں ڈالے؟ لوگ اپنے آپ کو گالیاں دلوانے کے لیے ہی تو سیاست دانوں کو ووٹ دیتے ہیں۔ عوام یہی تو چاہتی ہے کہ اسے غدار، بدبودار، بھکاری، عجیب مخلوق اور اردو میڈیم جیسے القابات سے نوازا جائے۔ ان کی بہتری اس میں ہے کہ اپنا جمہوری حق استعمال کرکے زندہ دلی کا ثبوت دیں کیونکہ مردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں؟

آخر میں مودبانہ گزارش ہے کہ جب پاکستانی جمہوریت کو دیکھیں تو بانہیں پھیلا کر اسکی بلائیں لیں، اسے چومیں، چمکاریں اور اسے پیار سے رکھیں۔ الغرض جمہوری شہدے (شودے) بن جائیں۔ اگر کوئی جمہوریت کو نوٹس دے، تو بابر اعوان کی طرح کہہ اٹهیں کہ۔
نوٹس ملیا، ککھ نہ ہلیا
جمہوریت نو کیوں گلہ کراں
میں لاکھ واری بسم اللہ پڑھاں۔

______________________________________

ٹویٹر پر اتباع کریں
@periqlytos