فیسبوک ۔۔۔۔ سوہان روح

آجکل فیسبوک کا جنون سب کے سروں پر سوار ہے۔ چھوٹی عمروں کے بچوں سے لے کر بڑی عمر کے لوگوں تک سب اس کے سحر میں مبتلا ہیں۔ کم سن ذہن تو اپنے وقت کے ساتھ اس سے ہم آشنا ہو جاتے ہیں مگر عمر رسیدہ لوگوں کو جدید دور کے اس نخرے سے واقفیت میں وقت لگ جاتا ہے۔

عرصہ ایک ماہ پہلے ایک حضرت سے ملاقات ہوئی۔ بڑے پرتپاک اور شاعرانہ انداز میں ملے۔ فرمانے لگے۔ “نام میرا میکال، عمر 55 سال، مزاج باکمال، مگر فیسبوک کا اکاونٹ بنانا محال، ذرا مدد کر دیجئیے”۔  میری خوش اخلاقی کہئیے یا جذبہ ہمدردی سے سرشاری، مدد کی حامی بھر لی۔ خیر! ان کا اکاونٹ بنا دیا اور ایک عدد بنا دانتوں کے مسکراتی تصویر بھی کھینچ لی۔ میکال صاحب خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ میرا شکریہ ادا کیا اور ہاتھ ملا کر چل دیے۔ ہمیں بھی دلی مسرت ہوئی کہ کسی انسان کا معمولی سہارا بنے۔

دو ہفتوں بعد میکال صاحب سے ایک محفل میں ملاقات ہو گئی۔ علیک سلیک کیا ہوئی، دشنام طرازی پر اتر آئے۔ بھرے مجمعے میں فیسبوک کی رمز (پاس ورڈ) بھولنے کا دکھڑا سنایا اور مصیبت کا ذمہ دار بھی ما بدولت کو ٹھہرا دیا۔ اگرچہ ان کی قیامت نما صعوبت کی ذمہ داری میرے جوان عمر کاندھوں پر تو نہ تھی، تاہم ان کی بات ٹھنڈے دل سے سنتا رہا۔ میری دلائلِ صفائی ان کے مزاجِ غیض و غضب پر تیل چھڑکنے کا کام کرتی رہیں۔ ہر چند کچھ لوگوں نے بیچ بچاو کرانے کی کوشش کی جو بے سود ثابت ہوئی۔ کچھ دیر میکال صاحب کے عتاب کا شکار رہنے کے بعد مابدولت، بھری بزم سے اٹھ کر چل دیے۔

جوں جوں قدم گھر کی طرف بڑھ رہے تھے، رہ رہ کر اپنی فروماندگی کا احساس ہو رہا تھا۔ اپنی خاکساری پر حد درجہ ندامت تھی۔ ملال تھا کہ کہ ماند پڑنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ گھر پہنچا تو ابا نے اداس چہرے کہ وجہ پوچھی۔ بپتا سننے پر کہنے لگے “وے میریا پترا! تینوں کینی واری کہیا اے کہ اک نا، تے سو سکھ، اک ہاں، تے سو دکھ ۔ تینوں سمجھاننے وی آں کہ اینا سگا نہی بنی دا کسے دا” ۔ اتنا کہہ کر وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے اور میں اپنے کمرے کی جانب۔ تمام شب یہ سوچتے گزر گئی کہ اچھائی کی ٹھیکے داری مہنگی پڑگئی۔ شرافت کی تحفگی اور فیسبوک کی عمدگی ایک شخص کے جہل و اشتعال کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ پھر ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بے ساختہ کہہ اٹھا “فیسبوک۔۔۔ سوہان روح”۔

———————————————————————————-

ٹویٹر پر اتباع کریں

@periqlytos

Advertisements