روح کون۔ بدروح کون؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

آج مطیع اللہ جان صاحب کا مقالہ “سو پیاز اور” نوائے وقت کی ویب سائٹ پر دیکھا۔ (اس کا ربط یہاں ہے)۔ مصنف کی تحریر اس وقت سامنے آ رہی ہے جب پاک افواج آپریشن ضرب عضب میں پے درپے  میں کامیابیاں حاصل کر کے عوام میں اپنا اعتماد بحال کر رہی ہے۔ موصوف کی تحریر پڑھ کر گمان ہونے لگا ہے کہ ایک منجھے ہوئے صحافی کا اگر یہ انداز کتابت ہے تو باقی صحافی برادری کا کیا حال ہوگا؟ تاریخ سے نا واقفیت ایک جانب مگر اردو زبان میں  اندازِ نگارش، بڑی ڈھٹائی سے لغت و فرہنگ سے نا محرمی اور اجنبیت کا پتہ بھی دے رہی ہے۔

مطیع جان اور ان جیسے صحافی جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کو ایسی سنتِ مؤکدہ سمجھ کر کوستے ہیں جیسے وطن عزیز شاید آمروں کے دور میں ہی آزاد ہوا ہو۔ انہیں تو ذو الفقار علی بھٹو نظر ہی نہیں آتے جنہیں کرسی طاقت پر براجمان کرانے والے جنرل گل حسن اور ایئر مارشل رحیم خان تھے۔ کیا جان میاں بھول گئے کہ مشرقی پاکستان کے بھائیوں کو دیوار سے لگانے میں بھٹو صاحب کا کتنا بڑا ہاتھ تھا، انہیں گالیوں سے نوازنے میں انہوں نے کتنا فخر محسوس کیا۔ سب سے بڑھ کر ملک کو دو لخت کرنے کا قبیح فعل بھی ان کے سر جاتا ہے۔ صرف یہی نہیں، اپنے “جمہوری” دور میں مخالفوں کو مروایا، سینکڑوں کو جیلوں میں ڈالا اور میڈیا پر پابندیاں لگائیں۔  وہی بھٹو جو مشرقی پاکستان میں انصاف نہ دے سکا، اس نے روٹی، کپڑے، مکان کا ایسا نعرہ کذب لگایا کہ جب گڑھی خدا بخش میں منوں مٹی تلے  دفن ہوا تو صرف گنتی کے چند لوگ باہر نکلے- اسے کہتے ہیں انتقام قدرت- جو قوم کو کچھ نہ دے سکا، اسے قوم نے کچھ نہ دیا- افسوس تو یہ ہے کہ مطیع صاحب کو کچھ بھی یاد نہیں۔ ہاں! اگر یاد ہے تو وہ قتل جس کا رونا وہ اور بھٹو کے چیلے 38 سال سے روتے آ رہے ہیں۔ ان کو باور کرانا ضروری ہے کہ جو سلوک بھٹو صاحب نے قوم کیساتھ کیا، اس سے بد تر حال پھر ان کا بھی ہوا۔ مگر ماتم ہے قوم کی یادداشت کا۔ انہیں عمل (ایکشن) تو یاد نہیں مگر رد عمل (ری ایکشن) “زندہ ہے بھٹو زندہ ہے” کی شکل میں ازبر ضرور ہے۔

  مطیع میاں کے خزانہ علم میں اضافے کی کمزور جسارت کروں کہ وہ “جمہوری” دور ہی تھا جس میں فلمی ٹکٹیں بلیک کرنے والے ان کے پییر و مرشد حضرت دس فیصد مد ظلہ و مغفور من العدالة الباکستانیة، المعروف آصف علی ولد حاکم علی زرداری بزنس میں جلوہ افروز ہوئے تھے- اب صاحب، یہ گناہ بھی ضیاء پر مت ڈالئیے گا کیوں کہ انہیں اللہ میاں کے پاس پہنچے ایک زمانہ ہوچکا تھا- یہ “جمہوریت” کا پھل تو کسی عام پاکستانی کو ملا تو نہیں، البتہ اس کی فیض و برکت سے کروڑ ہا روپے بغیر محنت کے ان کی جھولی مبارک میں گر گئے- دنیا کے مہنگے ترین ہار اور محلوں کی ملکیت بھی تو اسی “جمہوریت” کی حسین “روحوں” اور “حوروں” کی لاڑکانہ اور نوابشاہ پر نظر الفت کا نتیجہ ہیں- ورنہ بلاول ہاوس کسی فقیر کی جھونپڑی کا منظر پیش کرتی اور گڑھی خدا بخش کے آگے گائے بھینسیں اس طرح بندھی ہوتیں جس طرح سندھ کے “گھوسٹ سکولز” میں بندھی نظر آتی ہیں۔

مطیع میاں کو شاہ رائونڈستان کی بھی یاد تازہ کروانی چاھئیے جو ضیاء الحق کا سیاسی مشن لے کر چل رہے ہیں- آجکل وہ ملک خداداد کے وزیر اعظم جانے جاتے ہیں- اسی مشن کی وجہ سے وہ طاقت کے نشے میں چور سپریم کورٹ پر حملہ آور ہوگئے- ان کے سمدھی جی نے برملا اعتراف کیا کہ انھوں نے منی لانڈرنگ کی ہے مگر مجال ہے کہ شاہ جی کے ماتھے پر بل آتا- انہیں اپنے قریب اور کیا اور قرض اتارو ملک سنوارو کا نعرہ مستانہ لگاتے ہوئے قوم کا پیسہ اس کے باسیوں کی بجائے اپنی دھرتی دوم، جدہ پہنچا دیا- کارگل کی جنگ دشمن کے آگے ہار دی، مشرف کو مروانے ہی لگے تھے کہ بووٹ آگئے اور شاہ جی بیت ثانی پہنچ گئے جہاں، “اللہ کے فضل و کرم سے”، ایک اور ڈکٹیٹر سے ڈییل کرنے کے بعد سٹیل مل لگائی- اگر آمرانہ بدروح چاہتی تو ضیاء کے دور کو واپس لے آتی مگر ایک خاموش این آر او ہوا اور “جمہوریت” کے چیمپینز ملک بدر کر دیے گئے- ستم تو یہ ہے کہ ان کے پیچھے قوم کے غریب مرتے رہے اور پردیس میں پلاو، زردے اڑتے رہے۔

یہ ایک آمر مشرف کی بدولت ہی تھا کہ ملک میں نئے ٹی وی چینلز اور اخبارات کھولنے کی آزادی دی گئی ورنہ “جمہوریت” کی زندہ لاش کو رونے والے مطیع میاں کسی تپڑ یا تھڑے پر بیٹھ کر ایک تھرڈ کلاس اخبار یا گوسیپ میگزین کے کالم نگار ہوتے- اس حقیقت سے اگر وہ منہ چھپاتے ہیں تو وہ کسی اور کے نہیں، اپنے ساتھ ہی دغا کرتے ہیں کیونکہ تاریخ صرف کڑوا سچ لکھنا چانتی ہے۔

یہ ایک آمر ہی تھا جس کے دوسرے این آر او کی بدولت تمام سیاست دانوں کے گناہ صغائر و کبائر بغیر عدالت میں استغاثہ کے معاف کر دیے گئے- وہی چور، اچکے، ڈاکو، لٹیرے اور کروڑوں کا غبن کرنے والے کرپٹ سیاستدان قوم کو ایسے پیش کیے گئے جیسے براھیم و لوط کے سامنے فرشتے انسانوں کی شکل میں پیش کیے گئے تھے- مفاہمت کی سیاست میں تو گویا حسن یوسف پنہاں تھا کہ جس کی تاب نہ لاتے ہوئے ملک کے سب سے بڑے شہر میں دس ہزار لوگ کٹ مرے- یاد رہے کہ این آر او ایک ایسی غلطی تھی جو آمر کو ہمیشہ کے لیے لے ڈوبی- جس وردی نے بھٹو کو طاقت دلائی، اسی نے این آر او کے “حاجی” بنائے- کجا یہ کہ قوم کو جمہوریت کا حسن ملتا، روٹی، کپڑا، مکان ملتا، “مدبرین جمہوریت” مسکین کی روکھی سوکھی چھین کر یوں نگل گئے کہ غریب و غربت ماضی بعید کا قصہ لگنے لگے- ملک جمہوریت کی آڑ میں بجلی سے گیا، فیکٹریاں ایک ایک کرکے بند ہوتی گئیں۔ مگر قوم کے جمہوری نا خدا عوام کو قربانیوں کا درس عظیم دیتے رہے۔ آمری اور جمہوری ادوار کے قرضے دیکھئیے- کس نے ملک کو ترقی دی، یہ مطیع میاں کے لیے ایک عقدہ ہے جو کبھی نہ کبھی وا ہو ہی جائے گا۔

مطیع میاں جنرل ضیاء کی باقیات پر ٹسوے بہاتے ہوئے یہ بھول گئے کہ ان کی کابینہ میں جمہوریت کے پیران پیر یوسف رضا گیلانی بھی تھے- اتفاق سے یہ وہی صاحب ہیں جو کسی زمانے میں اپنے بچوں کی فیس تک مانگ کے دیتے تھے۔ جمہوریت نے کایا کیا پلٹی، قومی خزانے سے محلات بنائے، ہیروڈز میں شاپنگ کی اور اگلی نسلوں تک کے لیے خوب مال جمع کیا۔ مگر مطیع میاں کو یہ سب کیونکر نظر آئے۔ انہیں تو راجہ پرویز اشرف کا آئی پی پییز میں کرپشن تو گناہ نظر ہی نہیں آتا۔ اس سے جڑی کامران فیصل کی شہادت سے وہ واقف ہی نہیں۔اسے ان کا ذہنی فتور کہئیے یا میرا حسن ظن۔ شاید وہ ان کے کاموں کو اعمال حسنہ سمجھ بیٹھے ہیں۔

مطیع میاں کے الفاظ زرداری صاحب کی حالیہ تقریر کے تناظر میں دیکھئیے۔ جو ڈیمیج کنٹرول شیری رحمان اور قمر الزمان کائرہ نہ کرسکے، وہ کام شاید تنویر زمانی اور مطیع میاں کے سپرد کیا گیا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جمہوریت کی آڑ میں اپنا ذاتی بدلہ لینے کی کوشش کر رہے ہوں- سچ تو یہ ہے کہ قوم جاگ چکی ھے۔ اب دیکھو دیکھو کون آیا، بھٹو زندہ، بی بی شہید، جمہوریت انتقام، جیے مہاجر جیسے گھسے پٹے الفاظ کی کوئی اوقات نہیں رہی۔ رہی بات جمہوری روحوں اور آمریت کے بد روحوں کی، حقائق آپ کے سامنے رکھ دیے گئے ہیں۔ فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔

آپ سب سے ایک مودبانہ گزارش کروں گا۔ اگر آپ معاشرے کی بدروحوں اور ان کے ہر قسم کے استحصال سے تنگ ہیں تو مندرجہ ذیل نظم اعتزاز احسن کی آواز ذہن میں لا کر پڑھئیے اور تالیاں بجا کر جمہوریت کے حسن کو دوام بخشئیے۔

دنیا کی تاریخ گواہ ہے
عدل بنا جمہور نہ ہو گا
عدل ہوا تو دیس ہمارا
کبھی بھی چکنا چور نہ ہو گا
عدل بنا کمزور ادارے
عدل بنا کمزور اکائیاں
عدل بنا بے بس ہر شہری
عدل بنا ہر سمت دھائیاں
اوردنیا کی تاریخ میں سوچو
کب کوئی منصف قید ہوا ہے؟
آمر کی اپنی ہی اَنا سے
عدل یہاں ناپید ہوا ہے
عدل کے ایوانوں میں سن لو
اصلی منصف پھر آئیں گے
روٹی کپڑا اور گھر اپنا
لوگوں کو ہم دلوائیں گے
آٹا بجلی پانی ایندھن
سب کو سستے دام ملے گا
بے روزگاروں کو ہر ممکن
روزگار اور کام ملے گا
ریاست ہو گی ماں کے جیسی
ہر شہری سے پیار کرے گی
فوج لگے گی سب کو اچھی
جب سرحد کے پاس رہے گی
جاؤجاؤ سب سے کہ دو
محمد علی جنا ح نے لوگو
دیکھا تھا جو سپنا سب کا
ساری دنیا پراب ہو گا
سایہ ایک اور ایک ہی رب کا
وہ رب سچا وہ رب سانجھا
وہ ہرمذھب ہردھرم کا رب ہے
مسلم ہندو سکھ عیسائی
ہرانسان کے کرم کا رب ہے
سانجھا مالک سانجھا خالق
اسکے در پے سب حاصل ہے
عدم تشدد اسکا رستہ
امن ہمارا مستقبل ہے
ظالم اورغاصب کی دشمن
جنتا اب سے عیش کرے گی
مظلوموں کی آخر
جاری جدوجہد رہے گی
رستہ تھوڑا ہی باقی ہے
دیکھودیکھو وہ منزل ہے
ظالم ڈرکے بھاگ رہا ہے
جیت ہمارا مستقبل ہے

پاکستان زندہ باد

ٹویٹر پر اتباع کیجئیے

@periqlytos

—————————————————————————————————————————–

پس تحریر: کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے مندرجہ ذیل باتیں گوش گزار کر لیجئیے۔

میں نے ہمیشہ جمہوریت پر یقین رکھا ہے اور اب بھی رکھتا ہوں۔ میں پاکستان میں ایسی حکومت کا خواہاں ہوں جس میں عوام کی فلاح مقدم ہو اور حکمران ہمہ وقت احتساب کے لیے اپنے آپ کو پیش کریں۔

میں کسی سیاسی و مذہبی جماعت کا حامی نہیں۔

میرا جناب مطیع اللہ جان صاحب سے کوئی عناد نہیں۔ وہ ایک تجربہ کار اور منجھے ہوئے صحافی ہیں مگر جمہوریت اور اس کی تشریح کے معاملے میں ان سے اختلاف رائے رکھتا ہوں۔ شکریہ۔

Advertisements