انداز تخاطب، ایک لمحہ فکریہ

اکثر غیر سیاسی و غیر سنجیدہ موضوعات پر تحریر اور زباں بینی جوئے شیر لانے کے برابر ہوتی ہے مگر آج ایک ایسا موضوع سامنے آیا جس پر زور عقل و قلم جواب دے گئے- پھر بھی خامہ فرسائی کی ادنی سی کوشش کر ڈالی- امید ہے کہ اہل فکر و دانش کے ذہنوں میں سوچ بیدار ہوجائے-

اکثر مشاہدے میں آیا ہے کہ کچھ گاہک دکاندار سے اس انداز میں بات کرتے ہیں جیسے وہ کوئی پیروں میں مسل دینے والے گٹر کے کیڑے ہوں- عزت سے بات کرنا تو وہ کسر شان سمجھتے ہیں- گھمنڈ کا غراٹا اور لہجے کی کثافت میں لپٹا تعفن زدہ رویہ، روزگار کے ہاتھوں مجبور، زبان تھامے دوکاندار کو عرق انفعال پونچھنے پر مجبور کردیتا ہے- ایسے لوگ بادی النظر میں مانند عزازیل ہیں جن کی اوقات پھوٹی کھوڑی کی نہیں ہوتی جبکہ زبان چار ہاتھ کی ہوتی ہے- دنیا کی کوئی دولت ان کا رویہ ٹھیک نہیں کرسکتی- اسے میری ذاتی رائے کہا جائے یا کڑوا سچ مگر اس طرح کے لوگ غرض کے باولے ہوتے ہیں جو کسی اور کی سننے کی بجائے اپنی ہی گائے جاتے ہیں- یہ غضب کے دیدہ اپنی غلطی ماننے کی بجائے دکاندار کے سر پر سارا الزام تھوپ کر اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دے دیتے ہیں-

ان جیسوں کے لیے ایک سادہ سی عرض ہے کہ “زبان شیریں تے ملک گیریں”- دکاندار آپ ہی کی طرح انسان ہے، آپ کے دار کا کتا اور مگس راں نہیں جو آپ کے غصے کے درآمد ہونے پر بھی چپ سادھ لے- چند روپوں کے منافع میں دربستہ وہ آپ کا کام بھی کرے آور در در پھٹ پھٹ بھی سنے- ہاں! بعد از خرید کسی چھوٹے مسئلے پر لہجے میں معمولی درشتی سمجھ تو آتی ہے مگر ملامت و ملاعنت کرتے ہوئے آپ لمحہ اغلاط میں داخل ہوسکتے ہیں اور ملاحی گالیوں میں بات لڑائی جھگڑے تک پہنچ سکتی ہے- لہذا کوشش یہ کیجئیے کہ لہجے کو دھیما اور رویے کو ٹھنڈا رکھیئے- ہم وہ باتیں بھول چکے ہیں جو ہمارے پرکھوں نے کہی تھیں- اگلے وقتوں کی باتیں اور اقدار آج دقیانوسی کہلاتی ہیں- کچھ بھی ہو، تمیز کی روش قدامت پسند ہی سہی، مگر قد رعنا رکھتی ہے- ویسے اخلاق، تہذیب و متانت کی ترغیب، ہمارا دین قدسی بھی دیتا ہے- مولانا حالی کی مندرجہ ذیل نظم پڑھئیے اور اپنی زندگی میں تعلقات عامہ کو بہتر کیجئیے-

بڑھاؤ نہ آپس میں ملت زیادہ
مبادا کہ ہوجائے نفرت زیادہ
تکلف علامت ہے بیگانگی کی
نہ ڈالو تکلف کی عادت زیادہ
کرو دوستو پہلے آپ اپنی عزت
جو چاہو کریں لوگ عزت زیادہ
نکالو نہ رخنے نسب میں کسی کے
نہیں اس سے کوئی رذالت زیادہ
کرو علم سے اکتساب شرافت
نجابت سے ہے یہ شرافت زیادہ
فراغت سے دنیا میں دم بھر نہ بیٹھو
اگر چاہتے ہو فراغت زیادہ
جہاں رام ہوتا ہے میٹھی زباں سے
نہیں لگتی کچھ اس میں دولت زیادہ
مصیبت سے ایک اک سے احوال کہنا
مصیبت سے ہے یہ مصیبت زیادہ
کرو ذکر کم اپنی داد و دہش کا
مبادا کہ ثابت ہو خست زیادہ
پھر اوروں کی تکتے پھرو گے سخاوت
بڑھاؤ نہ حد سے سخاوت زیادہ
کہیں دوست تم سے نہ ہوجائیں بد ظن
جتاؤ نہ اپنی محبت زیادہ
جو چاہو فقیری میں عزت سے رہنا
نہ رکھو امیروں سے ملت زیادہ
وہ افلاس اپنا چھپاتے ہیں گویا
جو دولت سے کرتے ہیں نفرت زیادہ
نہیں چھپتے عیب اتنی ثروت سے تیرے
خدا دے تجھے خواجہ ثروت زیادہ
ہے الفت بھی وحشت بھی دنیا سے لازم
نہ الفت زیادہ نہ وحشت زیادہ
فرشتے سے بہتر ہے انسان بننا
مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ
بکے مفت یاں ہم زمانہ کے ہاتھوں
پر دیکھا تو تھی یہ بھی قیمت زیادہ
ہوئی عمر دنیا کے دھندوں میں آخر
نہیں بس اب اے عقل مہلت زیادہ
غزل میں وہ رنگت نہیں تیری حالی
الاپیں نہ بس آپ دھیرت زیادہ

ثبوت بدیہی تو مابدولت نے دے دیے- اگر  ثبوت تردیدی ہوں تو جواب ضرور لکھئیے گا-
————————————-
ٹویٹر پر اتباع کریں
@periqlytos
————————————-