رومانیہ، سویل شہادہ اور پاکستانیوں کی غلط فہمیاں

رومانیہ، مشرقی یورپ کا ملک آج کل سیاسی چپقلش اور تنازعات کا شکار ہے۔ گرچہ اس کے حالات ملک خداد کی آپ بیتی سے کچھ مختلف نہیں، مگر میڈیا کی مہربانی سے اسکی خبر ملتی ہی نہیں۔ محض تین سے چار منٹ کی رپورٹ چلا کر اکتفاء کرلیا جاتا ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے رومانیہ ہمارے میڈیا میں دوبارہ زیر بحث ہے کیونکہ ایک مسلمان خاتون کی وزیر اعظم نامزدگی کو مسترد کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ہمارے میڈیا اور سوشل میڈیا پر بیٹھے “اہلِ دانش” میں سراسیمگی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ میری ادنی سی کوشش ہوگی کہ رومانیہ کی حالیہ سیاسی تاریخ پر ایک سرسری نظر ڈالی جائے تاکہ اس ملک کے بارے میں غلط فہمیاں دور کی جاسکیں۔ 


رومانیہ میں سیاسی مسائل تو بہت رہے ہیں مگر حالات دگرگوں اس وقت ہوئے جب جون ۲۰۱۵ میں ان کے وزیر اعظم ویکٹر پونٹا پر ان کی قومی تحقیقاتی ایجنسی، ڈی این اے نے سنہ ۲۰۰۷ سے ۲۰۱۱ تک ٹیکس نادہندہ ہونے اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔ یہ اپنی نوعیت کا انوکھا کیس تھا جس میں کسی طاقتور شخصیت  پر براہ راست الزام لگا تھا۔ ڈی این اے، وزیراعظم کو گرفتار کرنا چاہتی تھی، مگر ان کی جماعت کی پارلیمنٹ میں اکثریت کی وجہ سے انہیں کسی بھی قانونی کارروائی سے مثتثنی قرار دے دیا گیا۔ 


ویکٹر پونٹا کی گرتی ساکھ کو آخری دھچکا اس وقت لگا جب ۳۰ اکتوبر ۲۰۱۵ کو دار الحکومت بوخاریسٹ کے ایک نائٹ کلب میں آتشزدگی کے دوران بھگدڑ مچ گئی جس کے نتیجے میں ۳۰ سے زائد افراد جھلس کر اور کچل کر ہلاک اور ۱۸۰ سے زائد زخمی ہوگئے۔ اس سے اگلے ہی دن عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی۔ لگ بھگ، بیس ہزار لوگوں نے شہر بند کرکے قومی جھنڈوں میں سوراخ کردیے اور حکومت وقت کو “قاتل” اور “مافیا” جیسے القابات سے نوازا۔ چار دن کے مسلسل مظاہروں کے بعد وزیراعظم ویکٹر پونٹا اور وزیر داخلہ گابریل اوپریا سمیت تمام کابینہ مستعفی ہوگئی۔


حکومت کے چلے جانے کے باوجود عوام کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا اور انہوں نے فوری انتخابات کا مطالبہ کردیا۔ اس کی تائید ہمسایہ ملک بلغاریہ، فرانس اور برطانیہ میں رہنے والے تارکین وطن نے بھی کردی۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مظاہرین کی ایک بہت بڑی تعداد نوجوانوں کی بھی تھی جس نے اس اندوہناک حادثے کو اپنے اوپر حملہ قرار دیا تھا۔


صدر کلاوس اوہانیس (پہلی تصویر) نے حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ایک ٹیکنوکریٹ، داسیان سیولوس (دوسری تصویر) کو وزیراعظم نامزد تو کردیا۔ مگر عوام کے غیظ و غضب پر قابو نہ پا سکی۔ 

کرپشن پر عدم برداشت کا وعدہ کرتے ہوئے رومانیہ میں تمام سیاسی جماعتیں ۱۱ دسمبر ۲۰۱۶ کو پارلیمانی انتخابات کے لیے آمنے سامنے آئیں۔ اس میں بائیں بازو کی سوشل ڈیموکریٹس کے امیدوار لیویو دراگنیا نے واضح اکثریت حاصل کی۔ تاہم انہیں اندازہ نہیں تھا کہ 2012 کے انتخابات میں بے ضابطگیوں پر انہیں نا اہل قرار دیا گیا تھا۔ لہذا اس انتخابات میں ان کی اہلیت چیلنج ہوگئی۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل ڈیموکریٹس نے ایک ترک، تاتاری مسلم خاتون، سویل شہادہ کو نامزد کیا۔ مگر ان کی نامزدگی پر بھی سوالات اٹھ گئے۔ اسکی دو وجوہات بنیں۔ ایک؛ مسز شہادہ کا سیاسی تجربہ صرف چھے ماہ ہے، جس میں وہ ویکٹر پونٹا کی حکومت میں رہیں۔ دوسرا، ان کے شوہر، اکرم شہادہ بزنس میں ہیں اور شامی صدر، بشار الاسد کی کابینہ میں مشیر برائے زراعت رہے ہیں۔

مسز شہادہ کے مذہب سے رومانیہ کے لوگوں کو کوئی دلچسپی تھی اور نہ ہی کسی نے اس پر کوئی سوال اٹھایا۔ مگر بدقسمتی سے پاکستانی میڈیا کے کچھ لوگوں نے بغیر سوچے سمجھے، مسز شہادہ کی عدم نامزدگی کو اسلام دشمنی کا لیبل دے دیا۔ ان کی خدمت میں ایک ہی عرض ہے؛ خدارا ہوش کے ناخن لیں۔ رومانیہ، یورپ کا سب سے غریب ملک ہے۔ اسکے لوگ ہمارے لوگوں کی طرح غریب اور ان کی اشرافیہ، ہماری اشرافیہ کی طرح امیر کبیر۔ از راہِ کرم، بین الاقوامی خبروں کا مطالعہ کریں،  رومانیہ کے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں سفارت خانے سے رابطہ کریں تاکہ آپ کے سامنے کچھ حقائق آسکیں۔ مگر یہ کیونکر ہو۔ جہاں وزارت خارجہ اس قدر غیر فعال ہے کہ ملکی میڈیا کو رومانیا کے ساتھ دفاعی تعلقات کے بارے میں بریفنگ ہی نہ دی گئی۔

ریڈیو پاکستان کا قوم پر اتنا احسان ضرور ہے کہ اس نے یہ بتانا گوارا کیا کہ میاں نواز شریف، بوسنیا کے حالیہ دورے کے بعد رومانیا رکے تھے۔

اخیراً، ایک مختصر سی عرض کروں گا کہ جہاں دنیا بھر میں ممالک مفادات کے لیے قریب آ رہے ہیں، وہاں سوشل میڈیا پر چلتی من گھڑت خبروں (فیک نیوز) کا دور دورہ بھی ہے۔ خبر پر مکمل تحقیق، وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مذہبی تعصب کے بھیس میں کوئی من گھڑت خبر دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات پر ضرب  لگادے۔ سورة الحجرات کی چھٹی آیت ہی سبق کے لیے کافی ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ

اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! اگر کوئی فاسق تمہیں خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لو۔ ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم (یا گروہ کو) کو ایذا پہنچا بیٹھو پھر اپنے ہی کیے پر پشیمانی اٹھاؤ۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹویٹر پر اتباع کریں

@periqlytos