قصہ ایک پَتَر کا

تو عزیزو! ایک پَتر کا قصہ ہے جس میں شاہ جی کا بھی حصہ ہے۔ اس کی تحریر بھی کیا خوب ہے۔  مضمون نگاری ایسی، جو حاکم وقت کے لیے آزادی کا پروانہ بن کر پردیس سے آئی ہے۔ پُرشِکستہ سوالوں، روگ، صدموں اور بکھیڑوں سے دور لے جانے کی نوید لانے والا ایسا خط، بھلا ہم اعمالِ عصیاں کے مالک بد نصیبوں کو کہاں ملے۔ یہ کاغز، محض ایک نوِشتہ ہی نہیں، عطار کا شیشہ ثابت ہوکر عصرِ آفریں کی خبر بھی دے رہا ہے۔ ایسی چِٹھی ہمارے فرماں رواوں کو غالبا ہمہ تن حاضری میں کھڑا رکھنے اور حاطب اللیل بننے کی صلاحیت رکھے ہوئے ہے۔ یقیں نہ آئے تو مالکِ تخت کے باد فروشوں سے ہی پوچھ لیجئیے جو کبھی تو اپنی داستانِ حسرت سنا سنا کے روتے ہیں، تو کبھی مکابرے جتلا کر مجادلے کی دھمکی تک دے دیتے ہیں ۔

ایک چیز جو عرصہ اقل سے قابلِ دید رہی، وہ یہ کہ شاہ جی جب باہر جاتے ہیں تو اپنے یدِ مبارک میں ایک عدد پرچی رکھتے ہیں۔ خدا معلوم کہ اس کا کیا سبب۔ مگر حسنِ ظن رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ مکتوب الیہ کی تعریف و توصیف اور محاسن و مہربانیاں ضرور بیان ہوتی ہونگی۔ زمانے کے انداز تو بدلے ہی ہیں، شاید محبت نے یوں انگڑائی لی کہ ان پرچیوں کے عوض مکاتیب کو وقت کی ضرورت سمجھا گیا۔ جس میں جُھگیوں کا کا ذکر خیر ہے۔ شاید اس لئیے کہ چشمِ محاسب کے لیے سند تیار رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے۔

پردیس کے سندیس میں جن بے چھپر و دیوارجھونپڑیوں کا ذکر ہے، اس سے لگتا ہے کہ شاہ جی زمانہ قدیم سے محنت کشی کی ابتغاء و جستجو میں لگی حیاتِ طیبہ گزار رہے ہیں۔ جب ان سے استفسار کیا جائے تو اپنی تنگِ زیست و ناداری کی کہانی کچھ یوں بتاتے ہیں کہ ان کے برحق و بجا اور راست و روا ہونے کا گمان ہونے لگتا ہے۔ ان کا سنایا ہوا دکھڑا، کم از کم اتنا ضرور بتاتا ہے کہ اغیار کے ہاتھوں، گھر چھِننے کے بعد زمین کے ایک حصے میں کی گئی مشقت ایسی سچلتا ہوئی، کہ فرنگستان میں کٹیا اور جھونپڑیاں بنتی ہی چلی گئیں۔ یہ قہر زدہ بپتا سننے کے بعد، اب آپ ہی بتائیے، کیا میں اور آپ، جفا کشی اور جاں فشانی کے اس معیار پر ہزار سالوں تک پہنچے سکتے ہیں؟

کاغز کی وہ دھجی، شاہ جی کے مہان ہونے کا جتنا بڑا ثبوت دیتی ہے، اتنا ایک تلخ حقیقت کی طرف اشارہ بھی کرتی ہے کہ رعایا کو جمع جکڑی کا گُر ہی نہیں آتا۔ وہ اتنی سست الوجود، خمار آلود، بے ہمت اور سہل پسند ہے کہ الامان والحفیظ۔ آلکس  تو ان کی گھٹی میں یوں پڑی ہے کہ بقول اقبال

لہو مجھ کو رلاتی ہے، جوانوں کی تن آسانی

جَنتا خستگی کی علامت کچھ یوں بنی ہوئی ہے کہ ان میں شعوری کا بے دار ہونا ناممکن نظر آتا ہے۔ آگاہی و ادراک سے دور یہ مخلوق اس قدر تجاہل پیشہ ہے کہ اسکے لیے احمق و اَزبک، ابوجھ و اَبلہ، بودم بے دال اور بغلول و بوالفضول جیسے القابات کم پڑجاتے ہیں۔ ان کوڑھ مغز نادانوں کو کب پتہ چلے گا کہ وہ خط محض کاغز کا ٹکڑا ہی نہیں، بلکہ شاہ جی کے بدن سے نور کے پھوٹنے کا ذریعہ بھی ہے۔ اُن کے نقشِ قدم پر چلنے سے ہی اکتسابِ نور کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے کیونکہ انہی کے دم سے فقر و فقیری کے سبق ملتے ہیں ۔

تحریر کے اختتام پر ایک ادنی سی عرض ہے کہ ہمیشہ پَتر پر نظر رکھیں- اسکا انتظار اتنی شدت سے کریں جتنا اپنے کسی پیارے کے گھر آنے کا کرتے ہیں۔ پدو پدوڑے بننے سے گریز کریں کیونکہ شاہ جی کی طرح  چھپر کے مستحق آپ بھی ہیں۔ شاید آپ کے نصیب میں بھی ایک پھوس کی جھونپڑی آجائے۔ بس اُس خط کو اور فیض کے ان الفاظ کو یاد رکھئیے

واپس نہیں پھیرا کوئی فرمان جنوں کا

تنہا نہیں لَوٹی کبھی آواز جرس کی

خیریتِ جاں، راحتِ تن، صحت داماں

سب بھول گئیں مصلحتیں اہلِ ہوس کی
____________________________

ٹویٹر پر اتباع کیجئیے

@periqlytos

___________________________

 پسِ تحریر: اس مقالے کا حالیہ پانامہ کیس سے کوئی تعلق نہیں۔ کسی بھی قسم کی مماثلت محض اتفاقیہ ہوسکتی ہے۔ تحریر کے مشکل ہونے کی وجہ پانامہ کے قضئیے کا دشوار گزار حد تک محال ہونا ہے۔ امید ہے میری یہ لغزش قابل معافی ہوگی۔ شکریہ