پانامہ کیس اور عدلیہ

1200px-Emblem_of_the_Supreme_Court_of_Pakistan.svg

بسم اللہ الرحمن الرحیم


مجھ نادان و انجان کو کچھ عرصے سے میڈیا کی بدولت ایک فقرہ سننے کو ملتا تھا کہ “عدلیہ پر بات نہیں کی جا سکتی، ان کے فیصلوں پر تبصرہ کیا جا سکتا ہے”۔ پھر خیال آیا کہ جب دینِ کامل کے حساس مسئلوں  پر ہر کس و ناکس، بخت آزمائی کرکے اپنے آپ کو دانشور کہلانے کی جستجو میں مگن ہے تو کیا عدلیہ دین سے بالاتر ہے کہ اس پر لب کشائی و خامہ فرسائی کو ناقابل بخشش جرم سمجھ کر چپ سادھ لی جائے؟ یہ سوال میں جس پس منظر کو سامنے رکھ کر اٹھا رہا ہوں، اس سے ہم سب واقف ہیں۔ جی ہاں، میرا واضح اشارہ پانامہ کیس کے فیصلے کی جانب ہے جس نے عدلیہ کے کردار کو پوری قوم کے سامنے برہنہ کردیا ہے۔ 

قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں عدل پر لا تعداد آیات موجود ہیں مگر ایک آیت ایسی ہے جس کا ایک حصہ سپریم کورٹ کے باہر درج ہے “فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ”۔ یہ سورة ص کی آیت نمبر 26 ہے۔ مکمل آیت یہ ہے، بعد اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ ‏فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ

اے داؤد! ہم نے تمہیں زمین پر اپنا نائب بنا کر بھیجا ہے، پس لوگوں میں حق و انصاف پر مبنی فیصلے کیا کرو اور کبھی مصلحتوں کی پیروی نہ کرنا، ‏ورنہ اللہ کے راستے سے بھٹک جاو گے۔ بے شک، جو اللہ کے راستے سے بھٹک جائیں، ان کے لئے سخت عذاب تیار ہے کیونکہ وہ یوم حساب کو بھلا بیٹھے۔

میں عدلیہ کے تمام ججز سے بصد ادب و احترام یہ سوال کرتا ہوں کہ پانامہ کے فیصلے کو مندرجہ بالا آیت کے تناظر میں رکھ کر دیکھئیے۔ اللہ جل شانہ نے کسی اور کو نہیں، آپ کو عدل کی بالا دستی کے لیے چنا، مگر آپ اللہ کے حکم سے ہی رو گردانی کرگئے۔ آپ کی اپنی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قوم نے آپ پر اعتماد کیا، آپ نے غداروں اور لٹیروں کا ساتھ دیا۔ جنہوں نے عدلیہ پر حملہ کیا، وہ آج ملک کے حکمران، اسکے خزانوں کے مالک اور اسکی تقدیر کے سودائی بن گئے۔  آپ کی حالیہ تاریخ اٹھائیں تو پتہ چلتا ہے کہ قوم نے شخصیات سے نہیں، عدل سے امید لگائی۔ نتیجہ کیا نکلا۔ کیا محترمہ بے نظیر بھٹو کے قاتل پکڑے گئے؟ کیا این آر او کے تحت بخشش پانے والے مجرموں کو سزا ہوئی؟ کیا 2008 کے انتخابات میں دھاندلی کرنے والوں کو سزا ہوئی؟ کیا آئی پی پیز کے نام پر اربوں ڈالر ہڑپنے والوں کے خلاف کارروائی ہوئی، کیا بجلی چوروں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا، کیا شاہ زیب خان کے قاتل اپنے انجام کو پہنچے، کیا کامران فیصل کو انصاف ملا؟ کیا سنہ 2013 کے انتخابات، جس میں دھاندلی کے واضح ویڈیو ثبوت پوری دنیا نے دیکھے، کیا اس پر کوئی ایکشن ہوا؟ ماڈل ٹاون میں دن دہاڑے چودہ لوگ شہید اور سینکڑوں زخمی کر دیے گئے، اس کیس کا کیا بنا؟ جسٹس باقر علی نجفی کی رپورٹ کیوں دبا دی گئی؟ اور اب پانامہ کیس کا فیصلہ۔ سب سوالوں کا جواب آپ بخوبی جانتے ہیں۔

اس سوال کا جواب ضروری ہے کہ جسٹس جناب عظمت سعید شیخ کیا واقعی ہسپتال میں ایڈمٹ ہوئے تھے یا پسِ پردہ معاملہ کچھ اور تھا۔ اگر یہ بات سچ ثابت ہوجائے کہ کسی حکمت عملی کے تحت پانامہ کا فیصلہ متضاد دیا گیا تو پوری عدلیہ اللہ کی اور قوم کی مجرم ہے۔ اس فیصلے کے بعد عدلیہ مزید کسی قضئیے کی سماعت کا حق کھو دیتی ہے۔ نیز یہ، کہ ملک میں عدم انصاف کی وجہ سے انتشار، قتل و غارت، دہشت گردی، فرقہ وارانہ فساد اور معاشی زبوں حالی کی براہ راست ذمہ دار عدلیہ ہے۔
میری محترم عدلیہ سے ایک گزارش ہے؛ عوام کو آپ کے کسی دعوت میں بیانات  سننے میں کوئی دلچسپی نہیں، اسے عدل کی اشد ضرورت ہے۔ انصاف کرسکتے ہیں تو ایسا کیجئیے کہ فیصلہ اپنی مثال آپ ہو۔ اگر نہیں کر سکتے تو کم از کم سپریم کورٹ کے باہر قرآن مجید کی آیت “فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ” کو ہٹا دیجئیے، تاکہ کم از کم آپ توہین قرآن کے مرتکب نہ ہوں۔ عوام الناس کو اتنا احساس ہوچکا ہے کہ انصاف سے امید کی لو آپ کے در پر آ کر بجھ جاتی ہے۔

اپنی تحریر کا خاتمہ صرف اس بات پر کروں گا کہ عدلیہ کا احترام سر آنکھوں پر۔ انکی تضحیک کبھی مقصود نہیں۔ مگر عوام کی لب بستگی اور صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا ہے۔ وہ کب تک انصاف کی راہ دیکھتے رہے گی۔ بقول (سیف الدین) سیفؔ

سیفؔ، اتنا بھی نہ کر ضبط کہ پھر ان کے حضور

خامشی درد کا اظہار نظر آنے لگے

 @periqlytosٹویٹر پر اتباع کریں۔


Advertisements