ڈان لیکس کے فیصلے کے بعد پاک فوج کی ہمت باندھنے کی ادنی سی کوشش

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دیار غیر میں بیٹھے، گزشتہ دن، بدنامِ زمانہ، ڈان لیکس کے قضیے کا فیصلہ دیکھا۔ پہلے ہی مایوسی کیا کم تھی کہ غم کا ایک اور پہاڑ ٹوٹ گیا۔ سوشل میڈیا پر گیا، تو اس پر پاک فوج کے خلاف تنقید کے پُل بندھے دیکھے۔ ان گناہ گار کانوں نے یہاں تک سنا کہ دخترِ اول کے بچاو کی خاطر ملکی سلامتی کا سودا کردیا گیا- پھر الیکٹرانک میڈیا کا رخ کیا تو پتہ چلا کہ اس نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو کر، اس ناگزیر اقدام کے سیاق و سباق معلوم کیے بغیر، چیف آف آرمی سٹاف، جناب جنرل قمر جاوید باجوہ اور جی ایچ کیو پر  اعتراضات کھڑے کردیے۔ قوم، جو کچھ حد تک، بجا طور پر جہاں فوج کی خاموشی پر بے چین ہے، وہاں زمینی حقائق سے لاعلم ہو کر اپنے ہی اضطراب کو مزید ہوا دے رہی ہے۔

عزیزو! ڈی جی، آئی ایس پی آر، میجر جنرل آصف غفور صاحب کی پریس کانفرنس ایک بار پھر دیکھئیے۔ ان کے چہرے کے تاثرات، آپکو فوج کے ہر حاضر سروس اور ریٹائرڈ شخص کے احساسات کا پتہ دیں گے۔ اگر  چاہیں تو آپکو آپریشن ضربِ عضب کے ایام کی یاد دلاتا ہوں۔ اس وقت، پاک فوج کے ترجمان، جنرل عاصم سلیم باجوہ نے آپریشن کی کامیابی کے لیے جو فرمایا تھا، ذرا ملاحظہ کیجئیے۔

 

میں چاھتا ہوں کہ آپ ان کی دوسری ٹویٹ کا سکرین شاٹ دوبارہ دیکھیں۔ اسکا آسان اردو میں ترجمہ یہ ہے

“قوم، دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خاتمے کے لیے فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ تاہم، چیف آف آرمی سٹاف (جنرل راحیل شریف) نے “ہم پلہ” گورننس کی ضرورت پر زور دیا ہے”۔ مطلب یہ کہ فوج آپریشن سے قبل، شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف تمام ثبوت اکٹھے کرچکی ہے۔ اب جس تیز رفتاری کے ساتھ فوج آپریشن کے نتیجے میں گرفتاریاں کر رہی ہے، عدالتوں کو بھی اسی رفتار سے سزا سنا کر مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانا چاھئیے، تا وقت یہ کہ ان مجرموں کے سہولت کاروں تک سے بھی نمٹ لیا جائے۔ یہی آپریشن ضربِ عضب کی کامیابی کی کنجی ہے۔ سادہ الفاظ میں، تمام نیشنل ایکشن پلان کو جنرل عاصم باجوہ نے دو ٹویٹس میں سمو دیا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا گورننس بہتر کرنا فوجی اداروں کا کام ہے یا سویلین اداروں کا؟ اسکا جواب، آپ بخوبی جانتے ہیں۔ 

اگر عدالتیں کام کر رہی ہوتیں، اور پانامہ قضئیے کا درست فیصلہ سامنے آتا، تو نہ صرف ملک میں امن عامہ ہوتا بلکہ دشمن محاذ کھولنے کی جرات نہ کرتا۔ مگر عدم انصاف نے ملک میں اندرونی اضطراب و خلفشار کو جنم دیا۔ ملک کے دشمن بھی ناگفتہ بہ حالات دیکھ کر شیر ہوگئے۔ ایل او سی اور چمن بارڈر پر حملے شروع ہوگئے- زخموں پر نمک پاشی کا کام پاک ایرانی سرحد پر کشیدگی نے کردیا۔ اسی اثناء میں کراچی، اندرون سندھ اور بلوچستان آپریشن اور سب سے بڑھ کر، آپریشن رد الفساد بھی شروع ہوا۔ مردم شماری کا بیڑا بھی فوج نے نہ چاھتے ہوئے اٹھایا۔ یہی تکالیف کیا کم تھیں کہ سجن جندال کی پاکستان آمد نے ڈان لیکس کے لیے مسئائل کھڑے کردئیے۔ تمام حقائق اور ذمہ داران کی نشاندہی ہونے کے باوجود فوج ایک قدم پیچھے محض اس لیے ہٹی کہ ملک خداداد میں آگ ہر جانب لگی ہے اور بجھنے کا نام نہیں لے رہی۔ شاید فوج کلبھوشن یاداو کی پھانسی تک اس قضئیے سے دور رہے۔ 

میری عوام اور میڈیا سے صرف ایک گزارش ہے؛ تنقید فوج پر اس وقت کریں جب آپ خود ان کی جگہ پر ہوں، ہر محاذ پر خود لڑیں، دشمن کا صفایا خود کریں، بھوکے پیٹ خود سوئیں، جان آپ کی جائے، معذور آپ ہوں، اپنے پاوں پر خود کھڑے ہوں اور خود ہمت کریں۔ اگر نہیں، تو اپنی زبانوں کو لگام دے کر رکھیں۔ ہر قسم کی قربانی فوج دے اور آپ کی گالیاں اور شتائم کا نشانہ بھی وہ بنے؟ میڈیا اینکرز اور سرخی پاوڈر لگانے والوں سے صرف ایک ہی سوال کرتا ہوں۔ اپنا ماضی ٹٹول کر اور اپنے آپ کو چبھتی حقیقت کے آئینے کے آگے رکھ کر اپنے آپ سے سوال کیجئیے کہ وہ کون تھا جس نے آپکی آواز کو دنیا تک پہنچانے کا سامان کیا؟

براہ کرم، فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں کیونکہ ملک خداداد کو  بچانا ہم سب کا فرض ہے۔ یہ کام وہ اکیلے سر انجام نہیں دے سکتے۔ پاک فوج اور پاکستانی عوام یک جان، دو قالب ہیں۔ ہمیشہ ان کی کامیابی کے لیے دعا گو رہیں۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاھئیے کہ جب قوم ناامید تھی تو اسکو سہارا فوج نے دیا۔ آج وہ خود آزمائش سے دو چار ہیں تو ہمیں چاھئیے کہ ان کی ہمت باندھیں، نہ کہ نکتہ چینی کرکے اور انہیں زک پہنچا کر انکی مشکلوں میں اضافے کا باعث بنیں- قرآنِ مجید کی مندرجہ ذیل آیات پڑھئیے اور فوج کے ساتھ قدم ملا کر ملک کو آگے بڑھائیے۔

اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! اپنے دفاع کا سامان پکڑو۔ پھر گروه بن کر کوچ کرو یا سب کے سب اکٹھے ہو کر نکلو۔

اور یقیناً تم میں ایک شخص وه ہے جو حیلے بہانے کرتا ہے، اگر اللہ تمہیں کسی آزمائش سے دو چار کرے، تو کہتا ہے کہ اللہ نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں ان کے ساتھ موجود نہ تھا۔

اور اگر تمہیں اللہ (آزمائش کے بعد) فتح یاب کرے تو اس (حیلے بہانے کرنے والے) کی کیفئیت یہ ہوتی ہے کہ تم میں اور اس کے درمیان کبھی تعلق تھا ہی نہیں، وہ (ٹھنڈی آہ بھر کر) کہتا ہے کہ اے کاش! اگر میں بھی ان کے ہمراه ہوتا تو بڑی کامیابی کو پہنچتا۔ (النساء: 71 تا 73

اب یہ آپ پر ہے کہ کس گروہ کا حصہ بننا چاھتے ہیں؛ اس کا، جسے اللہ آزمائش میں ڈال کر کر کامیاب کرتا ہے یا اسکا، جو ٹھٹھہ، مذاق اور بہانہ جوئی کے بعد کفِ افسوس مَلتا ہے۔ فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں۔

پاک فوج زندہ باد

پاکستان پائندہ باد

____________________________

ٹویٹر پر اتباع کیجئیے

@periqlytos