شہباز شریف کا تابناک ماضی

ٹہنی پہ خموش اک پرندہ

ماضی کے الٹ رہا ہے دفتر
رئیس امروہوی کے اس شعر کے مصداق راقم الحروف ماضی کے جھروکوں کو جھانکتے اور اخباروں کی خاک چھانتے ہوے مستقبل کے وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کا ماضی ٹٹول رہا تھا۔ ہر جگہ حدیبیہ اور (تین سال پہلے) سانحہ ماڈل ٹاون کے قصے نظر آئے مگر ایک ایسی خبر دیکھی جس نے چونکا کر رکھ دیا۔ مزید اور تحقیق کی تو کچھ چیزیں بھی سامنے آئیں جنہیں میں اپنے پیارے ہم وطنوں کے آگے رکھنا چاھوں گا۔ یہ بھی عرض کردوں کہ محترم عدلیہ کا شریف خاندان کو دیے گئے “گاڈ فادر” اور “سیسلین مافیا” جیسے  القابات کو ذہن میں رکھ کر اگلی سطریں پڑھی جائیں۔ 
چھوٹے میاں صاحب کو یاد ہوگا کہ جب 1998 میں وہ پنجاب کے وزیر اعلی تھے تو پنجاب پولیس میں ماورائے عدالت قتل کی وارداتیں بہت عام تھیں۔ پنجاب پولیس کا نوید بٹ، المعروف، نیدی پہلوان، انڈر ورلڈ کے گینگسٹر، تیفی بٹ کے ساتھ مل کر وارداتیں کرواتا تھا۔ اسی سال نیدی پہلوان نے حنیفا نامی ایک بدمعاش کو گرفتار کرکے پابند سلاسل کردیا۔ دوران حراست، حنیفا نے کہا کہ اگر اسکو رہا نہ کیا گیا تو وہ شریف برادران کی اصلیت قوم کے سامنے لے آئے گا۔  نیدی نے یہ بات شہباز شریف کو بتائی اور بعد ازاں ان کے حکم پر حنیفا سمیت، شفیق، ہمایوں گجر، ثنا گجر، ناجی بٹ اور کالی کو ماورائے عدالت قتل کروا دیا۔ نیدی پہلوان کو پولیس فورس سے نکال دیا گیا، نیب نے کیسز بنا دیے اور وہ برطانیہ فرار ہوگیا۔ 2005 میں وہ اپنی برطانوی نژاد بیوی اور بچوں کے ہمراہ واپس وطن پہنچا اور رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے منسلک ہوگیا۔ نومبر میں کسی زمین کے تنازعے پر اسے اسکے محافظوں، مقصود احمد (عرف پٹھانے خان) اور نصیر خان سمیت گولیاں مار دی گئیں۔ نیدی پہلوان موقع پر ہلاک، مقصود احمد ہسپتال جاتے ہوئے دم توڑ گیا جبکہ نصیر خان کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ اسکے بعد سے یہ قضیہ سرد خانے کی نذر ہوچکا ہے۔
سنہ 2008 میں شہباز شریف جب صوبائی الیکشن کے لیے نامزد ہوئے تو ان پر اسی ماورائے عدالت قتل کا الزام تھا جسے انہوں نے عدالت سے “ڈسمس” کروایا۔ وکی لیکس کے مارچ 2008 کیبلز کے مطابق انکی انتخابی مہم پر سعودی عرب نے بے پناہ رقم خرچ کی تھی۔ یہیں سے بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ ن لیگ کے کالعدم تنظیموں سے تعلقات ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ریٹائرڈ کرنل شجاع خانزادہ صاحب کو وزیر داخلہ پنجاب لگایا گیا مگر انہیں اگست 2015 میں شہید کردیا گیا۔  شاید یہی وجہ ہے کہ پاک فوج، پنجاب میں آپریشن نہیں کرپا رہی۔ 
میری سپریم کورٹ سے مودبانہ درخواست ہے کہ مندرجہ بالا بیان کیے گئے واقعات کی مزید تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی جائے۔ نیز اس چیز کی بھی تحقیق کریں کہ شریف برادران فارن فنڈنگ کے ذریعے ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔ بیس کروڑ عوام میں صادق و امین لوگوں کو ڈھونڈنا مشکل نہیں۔ ملک انصاف کی راہ پر تو چل نکلا ہے۔ اُسے اسی پٹری سے اتار کر واپس اسے مایوسیوں کے اندھیروں میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ بہترین لوگوں کو لا کر ہی پیارے وطن کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔ شاید عدلیہ کے حالیہ فیصلے نے امید کچھ یوں دلا دی ہے
ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغ آخر شب

ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے

Advertisements

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s