ڈان لیکس کے فیصلے کے بعد پاک فوج کی ہمت باندھنے کی ادنی سی کوشش

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دیار غیر میں بیٹھے، گزشتہ دن، بدنامِ زمانہ، ڈان لیکس کے قضیے کا فیصلہ دیکھا۔ پہلے ہی مایوسی کیا کم تھی کہ غم کا ایک اور پہاڑ ٹوٹ گیا۔ سوشل میڈیا پر گیا، تو اس پر پاک فوج کے خلاف تنقید کے پُل بندھے دیکھے۔ ان گناہ گار کانوں نے یہاں تک سنا کہ دخترِ اول کے بچاو کی خاطر ملکی سلامتی کا سودا کردیا گیا- پھر الیکٹرانک میڈیا کا رخ کیا تو پتہ چلا کہ اس نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو کر، اس ناگزیر اقدام کے سیاق و سباق معلوم کیے بغیر، چیف آف آرمی سٹاف، جناب جنرل قمر جاوید باجوہ اور جی ایچ کیو پر  اعتراضات کھڑے کردیے۔ قوم، جو کچھ حد تک، بجا طور پر جہاں فوج کی خاموشی پر بے چین ہے، وہاں زمینی حقائق سے لاعلم ہو کر اپنے ہی اضطراب کو مزید ہوا دے رہی ہے۔

عزیزو! ڈی جی، آئی ایس پی آر، میجر جنرل آصف غفور صاحب کی پریس کانفرنس ایک بار پھر دیکھئیے۔ ان کے چہرے کے تاثرات، آپکو فوج کے ہر حاضر سروس اور ریٹائرڈ شخص کے احساسات کا پتہ دیں گے۔ اگر  چاہیں تو آپکو آپریشن ضربِ عضب کے ایام کی یاد دلاتا ہوں۔ اس وقت، پاک فوج کے ترجمان، جنرل عاصم سلیم باجوہ نے آپریشن کی کامیابی کے لیے جو فرمایا تھا، ذرا ملاحظہ کیجئیے۔

 

میں چاھتا ہوں کہ آپ ان کی دوسری ٹویٹ کا سکرین شاٹ دوبارہ دیکھیں۔ اسکا آسان اردو میں ترجمہ یہ ہے

“قوم، دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خاتمے کے لیے فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ تاہم، چیف آف آرمی سٹاف (جنرل راحیل شریف) نے “ہم پلہ” گورننس کی ضرورت پر زور دیا ہے”۔ مطلب یہ کہ فوج آپریشن سے قبل، شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف تمام ثبوت اکٹھے کرچکی ہے۔ اب جس تیز رفتاری کے ساتھ فوج آپریشن کے نتیجے میں گرفتاریاں کر رہی ہے، عدالتوں کو بھی اسی رفتار سے سزا سنا کر مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانا چاھئیے، تا وقت یہ کہ ان مجرموں کے سہولت کاروں تک سے بھی نمٹ لیا جائے۔ یہی آپریشن ضربِ عضب کی کامیابی کی کنجی ہے۔ سادہ الفاظ میں، تمام نیشنل ایکشن پلان کو جنرل عاصم باجوہ نے دو ٹویٹس میں سمو دیا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا گورننس بہتر کرنا فوجی اداروں کا کام ہے یا سویلین اداروں کا؟ اسکا جواب، آپ بخوبی جانتے ہیں۔ 

اگر عدالتیں کام کر رہی ہوتیں، اور پانامہ قضئیے کا درست فیصلہ سامنے آتا، تو نہ صرف ملک میں امن عامہ ہوتا بلکہ دشمن محاذ کھولنے کی جرات نہ کرتا۔ مگر عدم انصاف نے ملک میں اندرونی اضطراب و خلفشار کو جنم دیا۔ ملک کے دشمن بھی ناگفتہ بہ حالات دیکھ کر شیر ہوگئے۔ ایل او سی اور چمن بارڈر پر حملے شروع ہوگئے- زخموں پر نمک پاشی کا کام پاک ایرانی سرحد پر کشیدگی نے کردیا۔ اسی اثناء میں کراچی، اندرون سندھ اور بلوچستان آپریشن اور سب سے بڑھ کر، آپریشن رد الفساد بھی شروع ہوا۔ مردم شماری کا بیڑا بھی فوج نے نہ چاھتے ہوئے اٹھایا۔ یہی تکالیف کیا کم تھیں کہ سجن جندال کی پاکستان آمد نے ڈان لیکس کے لیے مسئائل کھڑے کردئیے۔ تمام حقائق اور ذمہ داران کی نشاندہی ہونے کے باوجود فوج ایک قدم پیچھے محض اس لیے ہٹی کہ ملک خداداد میں آگ ہر جانب لگی ہے اور بجھنے کا نام نہیں لے رہی۔ شاید فوج کلبھوشن یاداو کی پھانسی تک اس قضئیے سے دور رہے۔ 

میری عوام اور میڈیا سے صرف ایک گزارش ہے؛ تنقید فوج پر اس وقت کریں جب آپ خود ان کی جگہ پر ہوں، ہر محاذ پر خود لڑیں، دشمن کا صفایا خود کریں، بھوکے پیٹ خود سوئیں، جان آپ کی جائے، معذور آپ ہوں، اپنے پاوں پر خود کھڑے ہوں اور خود ہمت کریں۔ اگر نہیں، تو اپنی زبانوں کو لگام دے کر رکھیں۔ ہر قسم کی قربانی فوج دے اور آپ کی گالیاں اور شتائم کا نشانہ بھی وہ بنے؟ میڈیا اینکرز اور سرخی پاوڈر لگانے والوں سے صرف ایک ہی سوال کرتا ہوں۔ اپنا ماضی ٹٹول کر اور اپنے آپ کو چبھتی حقیقت کے آئینے کے آگے رکھ کر اپنے آپ سے سوال کیجئیے کہ وہ کون تھا جس نے آپکی آواز کو دنیا تک پہنچانے کا سامان کیا؟

براہ کرم، فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں کیونکہ ملک خداداد کو  بچانا ہم سب کا فرض ہے۔ یہ کام وہ اکیلے سر انجام نہیں دے سکتے۔ پاک فوج اور پاکستانی عوام یک جان، دو قالب ہیں۔ ہمیشہ ان کی کامیابی کے لیے دعا گو رہیں۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاھئیے کہ جب قوم ناامید تھی تو اسکو سہارا فوج نے دیا۔ آج وہ خود آزمائش سے دو چار ہیں تو ہمیں چاھئیے کہ ان کی ہمت باندھیں، نہ کہ نکتہ چینی کرکے اور انہیں زک پہنچا کر انکی مشکلوں میں اضافے کا باعث بنیں- قرآنِ مجید کی مندرجہ ذیل آیات پڑھئیے اور فوج کے ساتھ قدم ملا کر ملک کو آگے بڑھائیے۔

اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! اپنے دفاع کا سامان پکڑو۔ پھر گروه بن کر کوچ کرو یا سب کے سب اکٹھے ہو کر نکلو۔

اور یقیناً تم میں ایک شخص وه ہے جو حیلے بہانے کرتا ہے، اگر اللہ تمہیں کسی آزمائش سے دو چار کرے، تو کہتا ہے کہ اللہ نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں ان کے ساتھ موجود نہ تھا۔

اور اگر تمہیں اللہ (آزمائش کے بعد) فتح یاب کرے تو اس (حیلے بہانے کرنے والے) کی کیفئیت یہ ہوتی ہے کہ تم میں اور اس کے درمیان کبھی تعلق تھا ہی نہیں، وہ (ٹھنڈی آہ بھر کر) کہتا ہے کہ اے کاش! اگر میں بھی ان کے ہمراه ہوتا تو بڑی کامیابی کو پہنچتا۔ (النساء: 71 تا 73

اب یہ آپ پر ہے کہ کس گروہ کا حصہ بننا چاھتے ہیں؛ اس کا، جسے اللہ آزمائش میں ڈال کر کر کامیاب کرتا ہے یا اسکا، جو ٹھٹھہ، مذاق اور بہانہ جوئی کے بعد کفِ افسوس مَلتا ہے۔ فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں۔

پاک فوج زندہ باد

پاکستان پائندہ باد

____________________________

ٹویٹر پر اتباع کیجئیے

@periqlytos

پانامہ کیس اور عدلیہ

1200px-Emblem_of_the_Supreme_Court_of_Pakistan.svg

بسم اللہ الرحمن الرحیم


مجھ نادان و انجان کو کچھ عرصے سے میڈیا کی بدولت ایک فقرہ سننے کو ملتا تھا کہ “عدلیہ پر بات نہیں کی جا سکتی، ان کے فیصلوں پر تبصرہ کیا جا سکتا ہے”۔ پھر خیال آیا کہ جب دینِ کامل کے حساس مسئلوں  پر ہر کس و ناکس، بخت آزمائی کرکے اپنے آپ کو دانشور کہلانے کی جستجو میں مگن ہے تو کیا عدلیہ دین سے بالاتر ہے کہ اس پر لب کشائی و خامہ فرسائی کو ناقابل بخشش جرم سمجھ کر چپ سادھ لی جائے؟ یہ سوال میں جس پس منظر کو سامنے رکھ کر اٹھا رہا ہوں، اس سے ہم سب واقف ہیں۔ جی ہاں، میرا واضح اشارہ پانامہ کیس کے فیصلے کی جانب ہے جس نے عدلیہ کے کردار کو پوری قوم کے سامنے برہنہ کردیا ہے۔ 

قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں عدل پر لا تعداد آیات موجود ہیں مگر ایک آیت ایسی ہے جس کا ایک حصہ سپریم کورٹ کے باہر درج ہے “فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ”۔ یہ سورة ص کی آیت نمبر 26 ہے۔ مکمل آیت یہ ہے، بعد اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ ‏فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ

اے داؤد! ہم نے تمہیں زمین پر اپنا نائب بنا کر بھیجا ہے، پس لوگوں میں حق و انصاف پر مبنی فیصلے کیا کرو اور کبھی مصلحتوں کی پیروی نہ کرنا، ‏ورنہ اللہ کے راستے سے بھٹک جاو گے۔ بے شک، جو اللہ کے راستے سے بھٹک جائیں، ان کے لئے سخت عذاب تیار ہے کیونکہ وہ یوم حساب کو بھلا بیٹھے۔

میں عدلیہ کے تمام ججز سے بصد ادب و احترام یہ سوال کرتا ہوں کہ پانامہ کے فیصلے کو مندرجہ بالا آیت کے تناظر میں رکھ کر دیکھئیے۔ اللہ جل شانہ نے کسی اور کو نہیں، آپ کو عدل کی بالا دستی کے لیے چنا، مگر آپ اللہ کے حکم سے ہی رو گردانی کرگئے۔ آپ کی اپنی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قوم نے آپ پر اعتماد کیا، آپ نے غداروں اور لٹیروں کا ساتھ دیا۔ جنہوں نے عدلیہ پر حملہ کیا، وہ آج ملک کے حکمران، اسکے خزانوں کے مالک اور اسکی تقدیر کے سودائی بن گئے۔  آپ کی حالیہ تاریخ اٹھائیں تو پتہ چلتا ہے کہ قوم نے شخصیات سے نہیں، عدل سے امید لگائی۔ نتیجہ کیا نکلا۔ کیا محترمہ بے نظیر بھٹو کے قاتل پکڑے گئے؟ کیا این آر او کے تحت بخشش پانے والے مجرموں کو سزا ہوئی؟ کیا 2008 کے انتخابات میں دھاندلی کرنے والوں کو سزا ہوئی؟ کیا آئی پی پیز کے نام پر اربوں ڈالر ہڑپنے والوں کے خلاف کارروائی ہوئی، کیا بجلی چوروں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا، کیا شاہ زیب خان کے قاتل اپنے انجام کو پہنچے، کیا کامران فیصل کو انصاف ملا؟ کیا سنہ 2013 کے انتخابات، جس میں دھاندلی کے واضح ویڈیو ثبوت پوری دنیا نے دیکھے، کیا اس پر کوئی ایکشن ہوا؟ ماڈل ٹاون میں دن دہاڑے چودہ لوگ شہید اور سینکڑوں زخمی کر دیے گئے، اس کیس کا کیا بنا؟ جسٹس باقر علی نجفی کی رپورٹ کیوں دبا دی گئی؟ اور اب پانامہ کیس کا فیصلہ۔ سب سوالوں کا جواب آپ بخوبی جانتے ہیں۔

اس سوال کا جواب ضروری ہے کہ جسٹس جناب عظمت سعید شیخ کیا واقعی ہسپتال میں ایڈمٹ ہوئے تھے یا پسِ پردہ معاملہ کچھ اور تھا۔ اگر یہ بات سچ ثابت ہوجائے کہ کسی حکمت عملی کے تحت پانامہ کا فیصلہ متضاد دیا گیا تو پوری عدلیہ اللہ کی اور قوم کی مجرم ہے۔ اس فیصلے کے بعد عدلیہ مزید کسی قضئیے کی سماعت کا حق کھو دیتی ہے۔ نیز یہ، کہ ملک میں عدم انصاف کی وجہ سے انتشار، قتل و غارت، دہشت گردی، فرقہ وارانہ فساد اور معاشی زبوں حالی کی براہ راست ذمہ دار عدلیہ ہے۔
میری محترم عدلیہ سے ایک گزارش ہے؛ عوام کو آپ کے کسی دعوت میں بیانات  سننے میں کوئی دلچسپی نہیں، اسے عدل کی اشد ضرورت ہے۔ انصاف کرسکتے ہیں تو ایسا کیجئیے کہ فیصلہ اپنی مثال آپ ہو۔ اگر نہیں کر سکتے تو کم از کم سپریم کورٹ کے باہر قرآن مجید کی آیت “فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ” کو ہٹا دیجئیے، تاکہ کم از کم آپ توہین قرآن کے مرتکب نہ ہوں۔ عوام الناس کو اتنا احساس ہوچکا ہے کہ انصاف سے امید کی لو آپ کے در پر آ کر بجھ جاتی ہے۔

اپنی تحریر کا خاتمہ صرف اس بات پر کروں گا کہ عدلیہ کا احترام سر آنکھوں پر۔ انکی تضحیک کبھی مقصود نہیں۔ مگر عوام کی لب بستگی اور صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا ہے۔ وہ کب تک انصاف کی راہ دیکھتے رہے گی۔ بقول (سیف الدین) سیفؔ

سیفؔ، اتنا بھی نہ کر ضبط کہ پھر ان کے حضور

خامشی درد کا اظہار نظر آنے لگے

 @periqlytosٹویٹر پر اتباع کریں۔


قصہ ایک پَتَر کا

تو عزیزو! ایک پَتر کا قصہ ہے جس میں شاہ جی کا بھی حصہ ہے۔ اس کی تحریر بھی کیا خوب ہے۔  مضمون نگاری ایسی، جو حاکم وقت کے لیے آزادی کا پروانہ بن کر پردیس سے آئی ہے۔ پُرشِکستہ سوالوں، روگ، صدموں اور بکھیڑوں سے دور لے جانے کی نوید لانے والا ایسا خط، بھلا ہم اعمالِ عصیاں کے مالک بد نصیبوں کو کہاں ملے۔ یہ کاغز، محض ایک نوِشتہ ہی نہیں، عطار کا شیشہ ثابت ہوکر عصرِ آفریں کی خبر بھی دے رہا ہے۔ ایسی چِٹھی ہمارے فرماں رواوں کو غالبا ہمہ تن حاضری میں کھڑا رکھنے اور حاطب اللیل بننے کی صلاحیت رکھے ہوئے ہے۔ یقیں نہ آئے تو مالکِ تخت کے باد فروشوں سے ہی پوچھ لیجئیے جو کبھی تو اپنی داستانِ حسرت سنا سنا کے روتے ہیں، تو کبھی مکابرے جتلا کر مجادلے کی دھمکی تک دے دیتے ہیں ۔

ایک چیز جو عرصہ اقل سے قابلِ دید رہی، وہ یہ کہ شاہ جی جب باہر جاتے ہیں تو اپنے یدِ مبارک میں ایک عدد پرچی رکھتے ہیں۔ خدا معلوم کہ اس کا کیا سبب۔ مگر حسنِ ظن رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ مکتوب الیہ کی تعریف و توصیف اور محاسن و مہربانیاں ضرور بیان ہوتی ہونگی۔ زمانے کے انداز تو بدلے ہی ہیں، شاید محبت نے یوں انگڑائی لی کہ ان پرچیوں کے عوض مکاتیب کو وقت کی ضرورت سمجھا گیا۔ جس میں جُھگیوں کا کا ذکر خیر ہے۔ شاید اس لئیے کہ چشمِ محاسب کے لیے سند تیار رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے۔

پردیس کے سندیس میں جن بے چھپر و دیوارجھونپڑیوں کا ذکر ہے، اس سے لگتا ہے کہ شاہ جی زمانہ قدیم سے محنت کشی کی ابتغاء و جستجو میں لگی حیاتِ طیبہ گزار رہے ہیں۔ جب ان سے استفسار کیا جائے تو اپنی تنگِ زیست و ناداری کی کہانی کچھ یوں بتاتے ہیں کہ ان کے برحق و بجا اور راست و روا ہونے کا گمان ہونے لگتا ہے۔ ان کا سنایا ہوا دکھڑا، کم از کم اتنا ضرور بتاتا ہے کہ اغیار کے ہاتھوں، گھر چھِننے کے بعد زمین کے ایک حصے میں کی گئی مشقت ایسی سچلتا ہوئی، کہ فرنگستان میں کٹیا اور جھونپڑیاں بنتی ہی چلی گئیں۔ یہ قہر زدہ بپتا سننے کے بعد، اب آپ ہی بتائیے، کیا میں اور آپ، جفا کشی اور جاں فشانی کے اس معیار پر ہزار سالوں تک پہنچے سکتے ہیں؟

کاغز کی وہ دھجی، شاہ جی کے مہان ہونے کا جتنا بڑا ثبوت دیتی ہے، اتنا ایک تلخ حقیقت کی طرف اشارہ بھی کرتی ہے کہ رعایا کو جمع جکڑی کا گُر ہی نہیں آتا۔ وہ اتنی سست الوجود، خمار آلود، بے ہمت اور سہل پسند ہے کہ الامان والحفیظ۔ آلکس  تو ان کی گھٹی میں یوں پڑی ہے کہ بقول اقبال

لہو مجھ کو رلاتی ہے، جوانوں کی تن آسانی

جَنتا خستگی کی علامت کچھ یوں بنی ہوئی ہے کہ ان میں شعوری کا بے دار ہونا ناممکن نظر آتا ہے۔ آگاہی و ادراک سے دور یہ مخلوق اس قدر تجاہل پیشہ ہے کہ اسکے لیے احمق و اَزبک، ابوجھ و اَبلہ، بودم بے دال اور بغلول و بوالفضول جیسے القابات کم پڑجاتے ہیں۔ ان کوڑھ مغز نادانوں کو کب پتہ چلے گا کہ وہ خط محض کاغز کا ٹکڑا ہی نہیں، بلکہ شاہ جی کے بدن سے نور کے پھوٹنے کا ذریعہ بھی ہے۔ اُن کے نقشِ قدم پر چلنے سے ہی اکتسابِ نور کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے کیونکہ انہی کے دم سے فقر و فقیری کے سبق ملتے ہیں ۔

تحریر کے اختتام پر ایک ادنی سی عرض ہے کہ ہمیشہ پَتر پر نظر رکھیں- اسکا انتظار اتنی شدت سے کریں جتنا اپنے کسی پیارے کے گھر آنے کا کرتے ہیں۔ پدو پدوڑے بننے سے گریز کریں کیونکہ شاہ جی کی طرح  چھپر کے مستحق آپ بھی ہیں۔ شاید آپ کے نصیب میں بھی ایک پھوس کی جھونپڑی آجائے۔ بس اُس خط کو اور فیض کے ان الفاظ کو یاد رکھئیے

واپس نہیں پھیرا کوئی فرمان جنوں کا

تنہا نہیں لَوٹی کبھی آواز جرس کی

خیریتِ جاں، راحتِ تن، صحت داماں

سب بھول گئیں مصلحتیں اہلِ ہوس کی
____________________________

ٹویٹر پر اتباع کیجئیے

@periqlytos

___________________________

 پسِ تحریر: اس مقالے کا حالیہ پانامہ کیس سے کوئی تعلق نہیں۔ کسی بھی قسم کی مماثلت محض اتفاقیہ ہوسکتی ہے۔ تحریر کے مشکل ہونے کی وجہ پانامہ کے قضئیے کا دشوار گزار حد تک محال ہونا ہے۔ امید ہے میری یہ لغزش قابل معافی ہوگی۔ شکریہ

رومانیہ، سویل شہادہ اور پاکستانیوں کی غلط فہمیاں

رومانیہ، مشرقی یورپ کا ملک آج کل سیاسی چپقلش اور تنازعات کا شکار ہے۔ گرچہ اس کے حالات ملک خداد کی آپ بیتی سے کچھ مختلف نہیں، مگر میڈیا کی مہربانی سے اسکی خبر ملتی ہی نہیں۔ محض تین سے چار منٹ کی رپورٹ چلا کر اکتفاء کرلیا جاتا ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے رومانیہ ہمارے میڈیا میں دوبارہ زیر بحث ہے کیونکہ ایک مسلمان خاتون کی وزیر اعظم نامزدگی کو مسترد کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ہمارے میڈیا اور سوشل میڈیا پر بیٹھے “اہلِ دانش” میں سراسیمگی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ میری ادنی سی کوشش ہوگی کہ رومانیہ کی حالیہ سیاسی تاریخ پر ایک سرسری نظر ڈالی جائے تاکہ اس ملک کے بارے میں غلط فہمیاں دور کی جاسکیں۔ 


رومانیہ میں سیاسی مسائل تو بہت رہے ہیں مگر حالات دگرگوں اس وقت ہوئے جب جون ۲۰۱۵ میں ان کے وزیر اعظم ویکٹر پونٹا پر ان کی قومی تحقیقاتی ایجنسی، ڈی این اے نے سنہ ۲۰۰۷ سے ۲۰۱۱ تک ٹیکس نادہندہ ہونے اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔ یہ اپنی نوعیت کا انوکھا کیس تھا جس میں کسی طاقتور شخصیت  پر براہ راست الزام لگا تھا۔ ڈی این اے، وزیراعظم کو گرفتار کرنا چاہتی تھی، مگر ان کی جماعت کی پارلیمنٹ میں اکثریت کی وجہ سے انہیں کسی بھی قانونی کارروائی سے مثتثنی قرار دے دیا گیا۔ 


ویکٹر پونٹا کی گرتی ساکھ کو آخری دھچکا اس وقت لگا جب ۳۰ اکتوبر ۲۰۱۵ کو دار الحکومت بوخاریسٹ کے ایک نائٹ کلب میں آتشزدگی کے دوران بھگدڑ مچ گئی جس کے نتیجے میں ۳۰ سے زائد افراد جھلس کر اور کچل کر ہلاک اور ۱۸۰ سے زائد زخمی ہوگئے۔ اس سے اگلے ہی دن عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی۔ لگ بھگ، بیس ہزار لوگوں نے شہر بند کرکے قومی جھنڈوں میں سوراخ کردیے اور حکومت وقت کو “قاتل” اور “مافیا” جیسے القابات سے نوازا۔ چار دن کے مسلسل مظاہروں کے بعد وزیراعظم ویکٹر پونٹا اور وزیر داخلہ گابریل اوپریا سمیت تمام کابینہ مستعفی ہوگئی۔


حکومت کے چلے جانے کے باوجود عوام کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا اور انہوں نے فوری انتخابات کا مطالبہ کردیا۔ اس کی تائید ہمسایہ ملک بلغاریہ، فرانس اور برطانیہ میں رہنے والے تارکین وطن نے بھی کردی۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مظاہرین کی ایک بہت بڑی تعداد نوجوانوں کی بھی تھی جس نے اس اندوہناک حادثے کو اپنے اوپر حملہ قرار دیا تھا۔


صدر کلاوس اوہانیس (پہلی تصویر) نے حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ایک ٹیکنوکریٹ، داسیان سیولوس (دوسری تصویر) کو وزیراعظم نامزد تو کردیا۔ مگر عوام کے غیظ و غضب پر قابو نہ پا سکی۔ 

کرپشن پر عدم برداشت کا وعدہ کرتے ہوئے رومانیہ میں تمام سیاسی جماعتیں ۱۱ دسمبر ۲۰۱۶ کو پارلیمانی انتخابات کے لیے آمنے سامنے آئیں۔ اس میں بائیں بازو کی سوشل ڈیموکریٹس کے امیدوار لیویو دراگنیا نے واضح اکثریت حاصل کی۔ تاہم انہیں اندازہ نہیں تھا کہ 2012 کے انتخابات میں بے ضابطگیوں پر انہیں نا اہل قرار دیا گیا تھا۔ لہذا اس انتخابات میں ان کی اہلیت چیلنج ہوگئی۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل ڈیموکریٹس نے ایک ترک، تاتاری مسلم خاتون، سویل شہادہ کو نامزد کیا۔ مگر ان کی نامزدگی پر بھی سوالات اٹھ گئے۔ اسکی دو وجوہات بنیں۔ ایک؛ مسز شہادہ کا سیاسی تجربہ صرف چھے ماہ ہے، جس میں وہ ویکٹر پونٹا کی حکومت میں رہیں۔ دوسرا، ان کے شوہر، اکرم شہادہ بزنس میں ہیں اور شامی صدر، بشار الاسد کی کابینہ میں مشیر برائے زراعت رہے ہیں۔

مسز شہادہ کے مذہب سے رومانیہ کے لوگوں کو کوئی دلچسپی تھی اور نہ ہی کسی نے اس پر کوئی سوال اٹھایا۔ مگر بدقسمتی سے پاکستانی میڈیا کے کچھ لوگوں نے بغیر سوچے سمجھے، مسز شہادہ کی عدم نامزدگی کو اسلام دشمنی کا لیبل دے دیا۔ ان کی خدمت میں ایک ہی عرض ہے؛ خدارا ہوش کے ناخن لیں۔ رومانیہ، یورپ کا سب سے غریب ملک ہے۔ اسکے لوگ ہمارے لوگوں کی طرح غریب اور ان کی اشرافیہ، ہماری اشرافیہ کی طرح امیر کبیر۔ از راہِ کرم، بین الاقوامی خبروں کا مطالعہ کریں،  رومانیہ کے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں سفارت خانے سے رابطہ کریں تاکہ آپ کے سامنے کچھ حقائق آسکیں۔ مگر یہ کیونکر ہو۔ جہاں وزارت خارجہ اس قدر غیر فعال ہے کہ ملکی میڈیا کو رومانیا کے ساتھ دفاعی تعلقات کے بارے میں بریفنگ ہی نہ دی گئی۔

ریڈیو پاکستان کا قوم پر اتنا احسان ضرور ہے کہ اس نے یہ بتانا گوارا کیا کہ میاں نواز شریف، بوسنیا کے حالیہ دورے کے بعد رومانیا رکے تھے۔

اخیراً، ایک مختصر سی عرض کروں گا کہ جہاں دنیا بھر میں ممالک مفادات کے لیے قریب آ رہے ہیں، وہاں سوشل میڈیا پر چلتی من گھڑت خبروں (فیک نیوز) کا دور دورہ بھی ہے۔ خبر پر مکمل تحقیق، وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مذہبی تعصب کے بھیس میں کوئی من گھڑت خبر دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات پر ضرب  لگادے۔ سورة الحجرات کی چھٹی آیت ہی سبق کے لیے کافی ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ

اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! اگر کوئی فاسق تمہیں خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لو۔ ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم (یا گروہ کو) کو ایذا پہنچا بیٹھو پھر اپنے ہی کیے پر پشیمانی اٹھاؤ۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹویٹر پر اتباع کریں

@periqlytos

What did I Learn From Crisis in Brazil?

Brazil, the biggest country in Latin America, has been rocked by political scandals. President Dilma Rouseff has stepped aside by giving her position to Vice President Michel Temer, till the investigations against her are finalized.

The stories of corruption are not strange in Brazil but the political fiasco made global headlines when former President, Luiz Inacio Lula Da Silva was detained for questioning. He was accused of bribery and corruption in State-Owned Petroleo Brasileiro (Petrobras) during his time in office (2003-2010). Da Silva was accused of money laundering and using offshore companies to buy beachfront properties in Sao Paolo as well as use Mossack Fonseca’s office in Brasilia to hide the ownership of ill gotten assets.

The political controversy did not end there. In 2011, when Dilma Rouseff was chairwoman of Petrobras, Nestor Cervero, the company’s Director of International Operations, laundered money to buy expensive properties in Rio De Janeiro. He also gave bribes to Speaker of the Congress, Eduardo Cunha who also belonged to Democratic Movement (PMDB), the opposition party. Money was also funneled in the party’s account by Lobbyist Fernando Soares. In August of 2015, both Cervero and Soares were found guilty of money laundering and are currently facing prison sentences of 12 and 16 years respectively.

Cunha, who was leading the struggle to root out corruption from the country and remove President Rouseff, was exposed in 2015 by Swiss authorities. It was reported that he and his family members had secret bank accounts that were not disclosed to Brazilian authorities. Things took a turn to worst when Panama Papers named him as a beneficiary of the bribes paid by offshore companies in British Virgin Islands. These were owned by Portugese businessman Idalecio de Castro Rodrigues de Oliveira. His company partnered with Petrobras and channeled money into Cunha’s accounts in Panama and Switzerland.

The case caused a lot of stir and was called “Operação Lava Jato”, Portugese term for “Operation Car Wash”. It resulted in arrests of high profile politicians namely Fernando Collor de Mello, (Another Former President of Brazil), Treasurer of ruling party, João Vaccari Neto and former Mines and Energy Minister, Edison Lobão. This case of high eminence was presided by Justice Sérgio Moro, who has now become a national hero.

Justice Moro tried to get Luiz da Silva arrested but failed to do so. In March, President Rouseff used the constitution to appoint her predecessor as chief of staff of Brazil, so he could claim immunity and escape the charges. But Justice Moro effectively stopped it by releasing the telephonic conversations between Rouseff, da Silva and other judges. Some criticized this move while others hailed it and celebrated around the nation.

The Parliament, which was in deep slumber finally woke up when on May 5th, Prosecutor General, Rodrigo Janot took an extraordinary step by suspending speaker Eduardo Cunha from his position as he may face charges similar to Rouseff and da Silva. He is also being investigated for abuse of power, intimidating and threatening lawmakers and obstruction of justice. He could face impeachment and even jail time, if convicted in the court of law.

The political situation in Brazil is bad to the extent that one of the founders of Workers Party, (ruling Party) 93 year old Helio Bicudo, expressed his disappointment in these words;
“The Workers Party was a party of hope, but its leaders got intoxicated by power, and now that hope has been dashed”.

Brazil has taken a risky path. With Summer Olympics around the corner, epidemic of Zika virus combined with political turmoil, things will not be easy any time soon. Bringing the corrupt to justice will be a key to attract foreign investments which are in record decline. Unless the judiciary takes extreme steps by bringing the ill gotten wealth back, Brazil’s economy will be in a constant state of slump. All three branches of the government should come up with a  temporary solution till the end of Summer Olympics. Better financial system will have an effect on neighboring Venezuela, Colombia, Bolivia, Uruguay and other countries Brazil shares its border with.

The crisis in Brazil has taught me a lesson. Two people, Rodrigo Janot and Justice Sérgio Moro, took a bold initiative by standing up to those who are hell bent in destroying the country. They want to see their country prosper and blossom on the map of the world. Through their actions, they are proving that justice is the key to progress and development. I expect the attorney general of Pakistan, Mr Ashtar Ausaf and Justice Anwar Zaheer Jamali to take a firm stand against corruption and take the judiciary on board. Our esteemed judicial system takes actions on non issues. For once, I expect them to take the untouchables to task. With accountability, they can take the nation forward, else an unending cycle of favoritism towards them will maintain their villainy towards the citizens.

 


 

follow me on twitter: periqlytos

So, Are You Ready?

I Begin With The Name of Allah, The Compassionate, The Merciful.

Mr Gaurav Arya

Let me begin by saying that I am neither a soldier, nor a political analyst. I am just an avid reader of news and current events, with a desire to get into the depth of every story. I came across your open letter to Pakistan’s Chief of Army Staff, General Raheel Shareef. It was quite entertaining, yet audacious. This brazen attempt by you has prompted me to write a humble response.

Sir, Your claim that “We are adversaries, not enemies” is far fetched from reality. The seeds of enmity and antagonism were sown the very moment India refused plebiscite in Kashmir and entered its forces there. It resulted in a number of wars in which Pakistan had the upper hand, despite being outnumbered by India. If it was not for United Nations, Pakistan would’ve not only taken Kashmir back but also include Muslim majority areas into its territory, resulting in reduction of India to the sizes of Hawaii and Polynesia.

Without any doubt, the war of 1971 was a display of State Terrorism by India. If its military is not ornamental, why did it need the help of other countries to separate Bangladesh. Groups like Balochistan Liberation Army (BLA) in Balochistan and Mutahida Qaomi Movement in Karachi became the new Mukti Bahni’s. This all got the cover of The Cold Start Doctrine. Three major operations have been conducted to justify CSD; Operation Vijaye Bhava, Operation Parakram and Operation Sudarshan Shakti. Ironically, all on the border with Pakistan. The purpose of these operations is none other than creating fear and intimidate Pakistan. You as an ex military man are perfectly aware of it.

Mr Arya! Major Shabbir Sharif gave his life in 1971 to stop State sponsored terrorism by India. His Younger Brother, Raheel is continuing the legacy to root out  terrorism from Pakistan. He has started Operation Zarb e Azb which is successfully heading towards logical conclusion. Your proxies and hideouts inside Pakistan and Afghanistan are being eliminated, so your wish; “To fight the good fight… man to man… face to face…” could be granted.

So, Are you ready?

Respectfully,

Ahmed Khan,
A Humble Pakistani.

 

———————————————————shabbir_raheel

 

Follow me on Twitter: @periqlytos

Revisiting National Action Plan in the light of Bacha Khan Tragedy

I Begin With The Name Of Allah, The Compassionate, The Merciful.

 

Today, a horrific attack on Bacha Khan University took place in Charsadda, which brought back gruesome memories of the attack on Army Public School, Peshawar. This beastly act of terrorists resulted in the loss of 15 precious lives. May Allah give the Martyrs the best place in Heaven and give us and their loved ones the courage to bear their immense and irreplaceable loss.

This grisly and frightful incident raises some questions on the behavior of ALL of our political parties towards NAP (National Action Plan). Not only the  attitude of our leaders is lousy, rotten, contemptible and outrageous, its outright criminal and swinish to say the least. In the 20 points of NAP which were agreed upon, only 1 has been fulfilled; i.e, Execution of convicted terrorists. Other 19 are waiting to be implemented. The reason is plain simple and as obvious as a day light. The majority members of status quo in Pakistan have direct links to banned outfits. Hence its not an open secret that they’re vehemently and impulsively against formation of Military courts.

Failure of the ruling party, Pakistan Muslim League Nawaz on federal level is the major reason why National Action Plan is not in full effect. Article 245 of the Constitution  should’ve been invoked at the beginning of Operation Zarb e Azb in 2014. The Sub Clause (1) explicitly says:
“The Armed Forces shall, under the directions of the Federal Government, defend Pakistan against external aggression or threat of war, and, subject to law, act in aid of civil power when called upon to do so,”.
It further states in Sub Clause 2:
“The validity of any direction issued by the Federal Government under clause (1) shall not be called in question in any Court.”
I am of the opinion that Chief of Army Staff, General Raheel Sharif should’ve quietly enforced the implementation of Article 245 on top of National Action Plan and then start the operation from Islamabad, where Lal Masjid and Jamia Hafsa are located. This is a place where  a lethal combination of hate speech and religious extremism was created for the country. The arrest and sentencing of Molvi Abdul Aziz and his terrorist thugs through Military Courts not only would’ve sent a strong message to all the banned outfits but also help restore the confidence of citizens on the dismembered and crippled justice system. From there, progression towards other felonious organizations would’ve lead the Army to an unending trail of money and eventually their financiers.

Using the garb of democracy, some parties used constitution and power to get exemption from prosecution. Recent case of passing of the Criminal Prosecution Service Bill in Sindh Assembly (which enables the provincial government to withdraw any subjudice case against any politician) is the biggest proof that the status quo is against every measure that makes them accountable for their actions. This atrocious stunt is obvious that Sindh Government wants to lock its horns with GHQ. Since PPP claims to abide by the constitution, their preposterous act triggers Article 6 of the constitution.

In Khyber Pakhtunkha, Chief Minister, Pervez Khattak should’ve asked General Raheel Sharif to conduct sting operations in different parts of the province, as an extension of significant breakthroughs made in Waziristan and Federally Administered Tribal Areas. This would’ve earned praise among Pakistanis, especially the citizens of KP, who have paid the highest price in the war on terror. But Waziristan and FATA, both fell victims to bureaucracy as federation and province failed to determine their authority and jurisdictions on the areas. It wont be wrong to say that KP government shares the blame for security lapses resulting in APS tragedy in 2014 and now Bacha Khan University incident.

The question we should all ask is whats next. Should things remain the way they are or should change for better? The likely response will be in the favor of latter. We must revisit the National Action Plan. The Army should not wait for the government as its actions are already causing unnecessary delays. Following the footsteps of Operation Zarb e Azb which was started without the approval of federation, the same should be done to active and strengthen National Counter Terrorism Authority (NACTA). The consent of politicians is not needed anymore as the nation has finally understood that its alleged elected leaders aren’t in a position to do anything other than filling their own bank accounts. Despite repeat reminders of improving governance by the military, politicians are active in doing otherwise. First criteria of improving governance is better law and order alongside speedy justice. Fast track to improvement of judiciary will be the formation of mobile courts on district levels. Hate speech should be curbed by  introducing new curriculum. Scholars from all walks of life should get together and point out individuals and places that spew hatred which in return defame and divide us. Minorities should be given the utmost protection as they’ve been persecuted for the longest. Safeguarding their places of worship will ensure their integration in the society. They must be engaged in bringing peace and harmony in our nation.

Media must play an important role in recognizing deeply rooted and chronic issues. Instead of pointing out the problems with endless looping of images with loud and bothersome music, bring people of knowledge to sort out them out and disentangle the quandaries. Introduce people with special needs in the media as they deserve to be heard too. They also have solutions to the problems of society. We must admit that that they’ve been overlooked and ignored for the longest. By accommodating them we can move ahead as a society.

It has to be understood that Karachi Operation is an integral and inseparable part of Operation Zarb e Azb. Its an undisputed fact that political parties like Pakistan Peoples Party and Mutahida Qaomi Movement are trying their best to hide behind the constitution or by clinging to power to claim and secure immunity. This has to come to an end. Speeding up the trial of Dr Asim Hussain will facilitate in cutting the red tape of bureaucracy. Else the hopes of people will start fading. All the efforts by the Military will wither beyond imagination.

Pakistan Army will have to come up with a strict policy to deal with Afghanistan. President Ashraf Ghani, Chief executive Abdullah Abdullah, National Directorate of Security and all the warring factions should be brought together to come up with a solution that brings peace in the country. Unless achieved, all of Asia will be in a continuous and uninterrupted turmoil with no end in sight. An emergency meeting of Organization of Islamic Cooperation should be called to arrange a peace keeping force from all Muslim countries. Ensuring safety and long lasting peace paired with reconstruction efforts will pave the way for dignified repatriation of refugees to their homeland.

The above mentioned things will have to be done in little to no time. Conclusive and irrevocable decisions will help us deal with ever changing global geo politics. Else skating on thin ice will be a catalyst to our downfall.

______________________________

Follow me on Twitter
@periqlytos

 

P.S. Someone kindly tell Ministry of Interior that NACTA’s website is still under construction since January 2015. Its been seeking attention for a year already. Thanks.