انداز تخاطب، ایک لمحہ فکریہ

اکثر غیر سیاسی و غیر سنجیدہ موضوعات پر تحریر اور زباں بینی جوئے شیر لانے کے برابر ہوتی ہے مگر آج ایک ایسا موضوع سامنے آیا جس پر زور عقل و قلم جواب دے گئے- پھر بھی خامہ فرسائی کی ادنی سی کوشش کر ڈالی- امید ہے کہ اہل فکر و دانش کے ذہنوں میں سوچ بیدار ہوجائے-

اکثر مشاہدے میں آیا ہے کہ کچھ گاہک دکاندار سے اس انداز میں بات کرتے ہیں جیسے وہ کوئی پیروں میں مسل دینے والے گٹر کے کیڑے ہوں- عزت سے بات کرنا تو وہ کسر شان سمجھتے ہیں- گھمنڈ کا غراٹا اور لہجے کی کثافت میں لپٹا تعفن زدہ رویہ، روزگار کے ہاتھوں مجبور، زبان تھامے دوکاندار کو عرق انفعال پونچھنے پر مجبور کردیتا ہے- ایسے لوگ بادی النظر میں مانند عزازیل ہیں جن کی اوقات پھوٹی کھوڑی کی نہیں ہوتی جبکہ زبان چار ہاتھ کی ہوتی ہے- دنیا کی کوئی دولت ان کا رویہ ٹھیک نہیں کرسکتی- اسے میری ذاتی رائے کہا جائے یا کڑوا سچ مگر اس طرح کے لوگ غرض کے باولے ہوتے ہیں جو کسی اور کی سننے کی بجائے اپنی ہی گائے جاتے ہیں- یہ غضب کے دیدہ اپنی غلطی ماننے کی بجائے دکاندار کے سر پر سارا الزام تھوپ کر اپنے آپ کو بری الذمہ قرار دے دیتے ہیں-

ان جیسوں کے لیے ایک سادہ سی عرض ہے کہ “زبان شیریں تے ملک گیریں”- دکاندار آپ ہی کی طرح انسان ہے، آپ کے دار کا کتا اور مگس راں نہیں جو آپ کے غصے کے درآمد ہونے پر بھی چپ سادھ لے- چند روپوں کے منافع میں دربستہ وہ آپ کا کام بھی کرے آور در در پھٹ پھٹ بھی سنے- ہاں! بعد از خرید کسی چھوٹے مسئلے پر لہجے میں معمولی درشتی سمجھ تو آتی ہے مگر ملامت و ملاعنت کرتے ہوئے آپ لمحہ اغلاط میں داخل ہوسکتے ہیں اور ملاحی گالیوں میں بات لڑائی جھگڑے تک پہنچ سکتی ہے- لہذا کوشش یہ کیجئیے کہ لہجے کو دھیما اور رویے کو ٹھنڈا رکھیئے- ہم وہ باتیں بھول چکے ہیں جو ہمارے پرکھوں نے کہی تھیں- اگلے وقتوں کی باتیں اور اقدار آج دقیانوسی کہلاتی ہیں- کچھ بھی ہو، تمیز کی روش قدامت پسند ہی سہی، مگر قد رعنا رکھتی ہے- ویسے اخلاق، تہذیب و متانت کی ترغیب، ہمارا دین قدسی بھی دیتا ہے- مولانا حالی کی مندرجہ ذیل نظم پڑھئیے اور اپنی زندگی میں تعلقات عامہ کو بہتر کیجئیے-

بڑھاؤ نہ آپس میں ملت زیادہ
مبادا کہ ہوجائے نفرت زیادہ
تکلف علامت ہے بیگانگی کی
نہ ڈالو تکلف کی عادت زیادہ
کرو دوستو پہلے آپ اپنی عزت
جو چاہو کریں لوگ عزت زیادہ
نکالو نہ رخنے نسب میں کسی کے
نہیں اس سے کوئی رذالت زیادہ
کرو علم سے اکتساب شرافت
نجابت سے ہے یہ شرافت زیادہ
فراغت سے دنیا میں دم بھر نہ بیٹھو
اگر چاہتے ہو فراغت زیادہ
جہاں رام ہوتا ہے میٹھی زباں سے
نہیں لگتی کچھ اس میں دولت زیادہ
مصیبت سے ایک اک سے احوال کہنا
مصیبت سے ہے یہ مصیبت زیادہ
کرو ذکر کم اپنی داد و دہش کا
مبادا کہ ثابت ہو خست زیادہ
پھر اوروں کی تکتے پھرو گے سخاوت
بڑھاؤ نہ حد سے سخاوت زیادہ
کہیں دوست تم سے نہ ہوجائیں بد ظن
جتاؤ نہ اپنی محبت زیادہ
جو چاہو فقیری میں عزت سے رہنا
نہ رکھو امیروں سے ملت زیادہ
وہ افلاس اپنا چھپاتے ہیں گویا
جو دولت سے کرتے ہیں نفرت زیادہ
نہیں چھپتے عیب اتنی ثروت سے تیرے
خدا دے تجھے خواجہ ثروت زیادہ
ہے الفت بھی وحشت بھی دنیا سے لازم
نہ الفت زیادہ نہ وحشت زیادہ
فرشتے سے بہتر ہے انسان بننا
مگر اس میں پڑتی ہے محنت زیادہ
بکے مفت یاں ہم زمانہ کے ہاتھوں
پر دیکھا تو تھی یہ بھی قیمت زیادہ
ہوئی عمر دنیا کے دھندوں میں آخر
نہیں بس اب اے عقل مہلت زیادہ
غزل میں وہ رنگت نہیں تیری حالی
الاپیں نہ بس آپ دھیرت زیادہ

ثبوت بدیہی تو مابدولت نے دے دیے- اگر  ثبوت تردیدی ہوں تو جواب ضرور لکھئیے گا-
————————————-
ٹویٹر پر اتباع کریں
@periqlytos
————————————-

روح کون۔ بدروح کون؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

آج مطیع اللہ جان صاحب کا مقالہ “سو پیاز اور” نوائے وقت کی ویب سائٹ پر دیکھا۔ (اس کا ربط یہاں ہے)۔ مصنف کی تحریر اس وقت سامنے آ رہی ہے جب پاک افواج آپریشن ضرب عضب میں پے درپے  میں کامیابیاں حاصل کر کے عوام میں اپنا اعتماد بحال کر رہی ہے۔ موصوف کی تحریر پڑھ کر گمان ہونے لگا ہے کہ ایک منجھے ہوئے صحافی کا اگر یہ انداز کتابت ہے تو باقی صحافی برادری کا کیا حال ہوگا؟ تاریخ سے نا واقفیت ایک جانب مگر اردو زبان میں  اندازِ نگارش، بڑی ڈھٹائی سے لغت و فرہنگ سے نا محرمی اور اجنبیت کا پتہ بھی دے رہی ہے۔

مطیع جان اور ان جیسے صحافی جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کو ایسی سنتِ مؤکدہ سمجھ کر کوستے ہیں جیسے وطن عزیز شاید آمروں کے دور میں ہی آزاد ہوا ہو۔ انہیں تو ذو الفقار علی بھٹو نظر ہی نہیں آتے جنہیں کرسی طاقت پر براجمان کرانے والے جنرل گل حسن اور ایئر مارشل رحیم خان تھے۔ کیا جان میاں بھول گئے کہ مشرقی پاکستان کے بھائیوں کو دیوار سے لگانے میں بھٹو صاحب کا کتنا بڑا ہاتھ تھا، انہیں گالیوں سے نوازنے میں انہوں نے کتنا فخر محسوس کیا۔ سب سے بڑھ کر ملک کو دو لخت کرنے کا قبیح فعل بھی ان کے سر جاتا ہے۔ صرف یہی نہیں، اپنے “جمہوری” دور میں مخالفوں کو مروایا، سینکڑوں کو جیلوں میں ڈالا اور میڈیا پر پابندیاں لگائیں۔  وہی بھٹو جو مشرقی پاکستان میں انصاف نہ دے سکا، اس نے روٹی، کپڑے، مکان کا ایسا نعرہ کذب لگایا کہ جب گڑھی خدا بخش میں منوں مٹی تلے  دفن ہوا تو صرف گنتی کے چند لوگ باہر نکلے- اسے کہتے ہیں انتقام قدرت- جو قوم کو کچھ نہ دے سکا، اسے قوم نے کچھ نہ دیا- افسوس تو یہ ہے کہ مطیع صاحب کو کچھ بھی یاد نہیں۔ ہاں! اگر یاد ہے تو وہ قتل جس کا رونا وہ اور بھٹو کے چیلے 38 سال سے روتے آ رہے ہیں۔ ان کو باور کرانا ضروری ہے کہ جو سلوک بھٹو صاحب نے قوم کیساتھ کیا، اس سے بد تر حال پھر ان کا بھی ہوا۔ مگر ماتم ہے قوم کی یادداشت کا۔ انہیں عمل (ایکشن) تو یاد نہیں مگر رد عمل (ری ایکشن) “زندہ ہے بھٹو زندہ ہے” کی شکل میں ازبر ضرور ہے۔

  مطیع میاں کے خزانہ علم میں اضافے کی کمزور جسارت کروں کہ وہ “جمہوری” دور ہی تھا جس میں فلمی ٹکٹیں بلیک کرنے والے ان کے پییر و مرشد حضرت دس فیصد مد ظلہ و مغفور من العدالة الباکستانیة، المعروف آصف علی ولد حاکم علی زرداری بزنس میں جلوہ افروز ہوئے تھے- اب صاحب، یہ گناہ بھی ضیاء پر مت ڈالئیے گا کیوں کہ انہیں اللہ میاں کے پاس پہنچے ایک زمانہ ہوچکا تھا- یہ “جمہوریت” کا پھل تو کسی عام پاکستانی کو ملا تو نہیں، البتہ اس کی فیض و برکت سے کروڑ ہا روپے بغیر محنت کے ان کی جھولی مبارک میں گر گئے- دنیا کے مہنگے ترین ہار اور محلوں کی ملکیت بھی تو اسی “جمہوریت” کی حسین “روحوں” اور “حوروں” کی لاڑکانہ اور نوابشاہ پر نظر الفت کا نتیجہ ہیں- ورنہ بلاول ہاوس کسی فقیر کی جھونپڑی کا منظر پیش کرتی اور گڑھی خدا بخش کے آگے گائے بھینسیں اس طرح بندھی ہوتیں جس طرح سندھ کے “گھوسٹ سکولز” میں بندھی نظر آتی ہیں۔

مطیع میاں کو شاہ رائونڈستان کی بھی یاد تازہ کروانی چاھئیے جو ضیاء الحق کا سیاسی مشن لے کر چل رہے ہیں- آجکل وہ ملک خداداد کے وزیر اعظم جانے جاتے ہیں- اسی مشن کی وجہ سے وہ طاقت کے نشے میں چور سپریم کورٹ پر حملہ آور ہوگئے- ان کے سمدھی جی نے برملا اعتراف کیا کہ انھوں نے منی لانڈرنگ کی ہے مگر مجال ہے کہ شاہ جی کے ماتھے پر بل آتا- انہیں اپنے قریب اور کیا اور قرض اتارو ملک سنوارو کا نعرہ مستانہ لگاتے ہوئے قوم کا پیسہ اس کے باسیوں کی بجائے اپنی دھرتی دوم، جدہ پہنچا دیا- کارگل کی جنگ دشمن کے آگے ہار دی، مشرف کو مروانے ہی لگے تھے کہ بووٹ آگئے اور شاہ جی بیت ثانی پہنچ گئے جہاں، “اللہ کے فضل و کرم سے”، ایک اور ڈکٹیٹر سے ڈییل کرنے کے بعد سٹیل مل لگائی- اگر آمرانہ بدروح چاہتی تو ضیاء کے دور کو واپس لے آتی مگر ایک خاموش این آر او ہوا اور “جمہوریت” کے چیمپینز ملک بدر کر دیے گئے- ستم تو یہ ہے کہ ان کے پیچھے قوم کے غریب مرتے رہے اور پردیس میں پلاو، زردے اڑتے رہے۔

یہ ایک آمر مشرف کی بدولت ہی تھا کہ ملک میں نئے ٹی وی چینلز اور اخبارات کھولنے کی آزادی دی گئی ورنہ “جمہوریت” کی زندہ لاش کو رونے والے مطیع میاں کسی تپڑ یا تھڑے پر بیٹھ کر ایک تھرڈ کلاس اخبار یا گوسیپ میگزین کے کالم نگار ہوتے- اس حقیقت سے اگر وہ منہ چھپاتے ہیں تو وہ کسی اور کے نہیں، اپنے ساتھ ہی دغا کرتے ہیں کیونکہ تاریخ صرف کڑوا سچ لکھنا چانتی ہے۔

یہ ایک آمر ہی تھا جس کے دوسرے این آر او کی بدولت تمام سیاست دانوں کے گناہ صغائر و کبائر بغیر عدالت میں استغاثہ کے معاف کر دیے گئے- وہی چور، اچکے، ڈاکو، لٹیرے اور کروڑوں کا غبن کرنے والے کرپٹ سیاستدان قوم کو ایسے پیش کیے گئے جیسے براھیم و لوط کے سامنے فرشتے انسانوں کی شکل میں پیش کیے گئے تھے- مفاہمت کی سیاست میں تو گویا حسن یوسف پنہاں تھا کہ جس کی تاب نہ لاتے ہوئے ملک کے سب سے بڑے شہر میں دس ہزار لوگ کٹ مرے- یاد رہے کہ این آر او ایک ایسی غلطی تھی جو آمر کو ہمیشہ کے لیے لے ڈوبی- جس وردی نے بھٹو کو طاقت دلائی، اسی نے این آر او کے “حاجی” بنائے- کجا یہ کہ قوم کو جمہوریت کا حسن ملتا، روٹی، کپڑا، مکان ملتا، “مدبرین جمہوریت” مسکین کی روکھی سوکھی چھین کر یوں نگل گئے کہ غریب و غربت ماضی بعید کا قصہ لگنے لگے- ملک جمہوریت کی آڑ میں بجلی سے گیا، فیکٹریاں ایک ایک کرکے بند ہوتی گئیں۔ مگر قوم کے جمہوری نا خدا عوام کو قربانیوں کا درس عظیم دیتے رہے۔ آمری اور جمہوری ادوار کے قرضے دیکھئیے- کس نے ملک کو ترقی دی، یہ مطیع میاں کے لیے ایک عقدہ ہے جو کبھی نہ کبھی وا ہو ہی جائے گا۔

مطیع میاں جنرل ضیاء کی باقیات پر ٹسوے بہاتے ہوئے یہ بھول گئے کہ ان کی کابینہ میں جمہوریت کے پیران پیر یوسف رضا گیلانی بھی تھے- اتفاق سے یہ وہی صاحب ہیں جو کسی زمانے میں اپنے بچوں کی فیس تک مانگ کے دیتے تھے۔ جمہوریت نے کایا کیا پلٹی، قومی خزانے سے محلات بنائے، ہیروڈز میں شاپنگ کی اور اگلی نسلوں تک کے لیے خوب مال جمع کیا۔ مگر مطیع میاں کو یہ سب کیونکر نظر آئے۔ انہیں تو راجہ پرویز اشرف کا آئی پی پییز میں کرپشن تو گناہ نظر ہی نہیں آتا۔ اس سے جڑی کامران فیصل کی شہادت سے وہ واقف ہی نہیں۔اسے ان کا ذہنی فتور کہئیے یا میرا حسن ظن۔ شاید وہ ان کے کاموں کو اعمال حسنہ سمجھ بیٹھے ہیں۔

مطیع میاں کے الفاظ زرداری صاحب کی حالیہ تقریر کے تناظر میں دیکھئیے۔ جو ڈیمیج کنٹرول شیری رحمان اور قمر الزمان کائرہ نہ کرسکے، وہ کام شاید تنویر زمانی اور مطیع میاں کے سپرد کیا گیا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جمہوریت کی آڑ میں اپنا ذاتی بدلہ لینے کی کوشش کر رہے ہوں- سچ تو یہ ہے کہ قوم جاگ چکی ھے۔ اب دیکھو دیکھو کون آیا، بھٹو زندہ، بی بی شہید، جمہوریت انتقام، جیے مہاجر جیسے گھسے پٹے الفاظ کی کوئی اوقات نہیں رہی۔ رہی بات جمہوری روحوں اور آمریت کے بد روحوں کی، حقائق آپ کے سامنے رکھ دیے گئے ہیں۔ فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔

آپ سب سے ایک مودبانہ گزارش کروں گا۔ اگر آپ معاشرے کی بدروحوں اور ان کے ہر قسم کے استحصال سے تنگ ہیں تو مندرجہ ذیل نظم اعتزاز احسن کی آواز ذہن میں لا کر پڑھئیے اور تالیاں بجا کر جمہوریت کے حسن کو دوام بخشئیے۔

دنیا کی تاریخ گواہ ہے
عدل بنا جمہور نہ ہو گا
عدل ہوا تو دیس ہمارا
کبھی بھی چکنا چور نہ ہو گا
عدل بنا کمزور ادارے
عدل بنا کمزور اکائیاں
عدل بنا بے بس ہر شہری
عدل بنا ہر سمت دھائیاں
اوردنیا کی تاریخ میں سوچو
کب کوئی منصف قید ہوا ہے؟
آمر کی اپنی ہی اَنا سے
عدل یہاں ناپید ہوا ہے
عدل کے ایوانوں میں سن لو
اصلی منصف پھر آئیں گے
روٹی کپڑا اور گھر اپنا
لوگوں کو ہم دلوائیں گے
آٹا بجلی پانی ایندھن
سب کو سستے دام ملے گا
بے روزگاروں کو ہر ممکن
روزگار اور کام ملے گا
ریاست ہو گی ماں کے جیسی
ہر شہری سے پیار کرے گی
فوج لگے گی سب کو اچھی
جب سرحد کے پاس رہے گی
جاؤجاؤ سب سے کہ دو
محمد علی جنا ح نے لوگو
دیکھا تھا جو سپنا سب کا
ساری دنیا پراب ہو گا
سایہ ایک اور ایک ہی رب کا
وہ رب سچا وہ رب سانجھا
وہ ہرمذھب ہردھرم کا رب ہے
مسلم ہندو سکھ عیسائی
ہرانسان کے کرم کا رب ہے
سانجھا مالک سانجھا خالق
اسکے در پے سب حاصل ہے
عدم تشدد اسکا رستہ
امن ہمارا مستقبل ہے
ظالم اورغاصب کی دشمن
جنتا اب سے عیش کرے گی
مظلوموں کی آخر
جاری جدوجہد رہے گی
رستہ تھوڑا ہی باقی ہے
دیکھودیکھو وہ منزل ہے
ظالم ڈرکے بھاگ رہا ہے
جیت ہمارا مستقبل ہے

پاکستان زندہ باد

ٹویٹر پر اتباع کیجئیے

@periqlytos

—————————————————————————————————————————–

پس تحریر: کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے مندرجہ ذیل باتیں گوش گزار کر لیجئیے۔

میں نے ہمیشہ جمہوریت پر یقین رکھا ہے اور اب بھی رکھتا ہوں۔ میں پاکستان میں ایسی حکومت کا خواہاں ہوں جس میں عوام کی فلاح مقدم ہو اور حکمران ہمہ وقت احتساب کے لیے اپنے آپ کو پیش کریں۔

میں کسی سیاسی و مذہبی جماعت کا حامی نہیں۔

میرا جناب مطیع اللہ جان صاحب سے کوئی عناد نہیں۔ وہ ایک تجربہ کار اور منجھے ہوئے صحافی ہیں مگر جمہوریت اور اس کی تشریح کے معاملے میں ان سے اختلاف رائے رکھتا ہوں۔ شکریہ۔

فیسبوک ۔۔۔۔ سوہان روح

آجکل فیسبوک کا جنون سب کے سروں پر سوار ہے۔ چھوٹی عمروں کے بچوں سے لے کر بڑی عمر کے لوگوں تک سب اس کے سحر میں مبتلا ہیں۔ کم سن ذہن تو اپنے وقت کے ساتھ اس سے ہم آشنا ہو جاتے ہیں مگر عمر رسیدہ لوگوں کو جدید دور کے اس نخرے سے واقفیت میں وقت لگ جاتا ہے۔

عرصہ ایک ماہ پہلے ایک حضرت سے ملاقات ہوئی۔ بڑے پرتپاک اور شاعرانہ انداز میں ملے۔ فرمانے لگے۔ “نام میرا میکال، عمر 55 سال، مزاج باکمال، مگر فیسبوک کا اکاونٹ بنانا محال، ذرا مدد کر دیجئیے”۔  میری خوش اخلاقی کہئیے یا جذبہ ہمدردی سے سرشاری، مدد کی حامی بھر لی۔ خیر! ان کا اکاونٹ بنا دیا اور ایک عدد بنا دانتوں کے مسکراتی تصویر بھی کھینچ لی۔ میکال صاحب خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے۔ میرا شکریہ ادا کیا اور ہاتھ ملا کر چل دیے۔ ہمیں بھی دلی مسرت ہوئی کہ کسی انسان کا معمولی سہارا بنے۔

دو ہفتوں بعد میکال صاحب سے ایک محفل میں ملاقات ہو گئی۔ علیک سلیک کیا ہوئی، دشنام طرازی پر اتر آئے۔ بھرے مجمعے میں فیسبوک کی رمز (پاس ورڈ) بھولنے کا دکھڑا سنایا اور مصیبت کا ذمہ دار بھی ما بدولت کو ٹھہرا دیا۔ اگرچہ ان کی قیامت نما صعوبت کی ذمہ داری میرے جوان عمر کاندھوں پر تو نہ تھی، تاہم ان کی بات ٹھنڈے دل سے سنتا رہا۔ میری دلائلِ صفائی ان کے مزاجِ غیض و غضب پر تیل چھڑکنے کا کام کرتی رہیں۔ ہر چند کچھ لوگوں نے بیچ بچاو کرانے کی کوشش کی جو بے سود ثابت ہوئی۔ کچھ دیر میکال صاحب کے عتاب کا شکار رہنے کے بعد مابدولت، بھری بزم سے اٹھ کر چل دیے۔

جوں جوں قدم گھر کی طرف بڑھ رہے تھے، رہ رہ کر اپنی فروماندگی کا احساس ہو رہا تھا۔ اپنی خاکساری پر حد درجہ ندامت تھی۔ ملال تھا کہ کہ ماند پڑنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔ گھر پہنچا تو ابا نے اداس چہرے کہ وجہ پوچھی۔ بپتا سننے پر کہنے لگے “وے میریا پترا! تینوں کینی واری کہیا اے کہ اک نا، تے سو سکھ، اک ہاں، تے سو دکھ ۔ تینوں سمجھاننے وی آں کہ اینا سگا نہی بنی دا کسے دا” ۔ اتنا کہہ کر وہ اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئے اور میں اپنے کمرے کی جانب۔ تمام شب یہ سوچتے گزر گئی کہ اچھائی کی ٹھیکے داری مہنگی پڑگئی۔ شرافت کی تحفگی اور فیسبوک کی عمدگی ایک شخص کے جہل و اشتعال کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ پھر ایک ٹھنڈی آہ بھری اور بے ساختہ کہہ اٹھا “فیسبوک۔۔۔ سوہان روح”۔

———————————————————————————-

ٹویٹر پر اتباع کریں

@periqlytos

Observing March 23, Discussing Pakistan’s Past and How It Can Be Improved.

March 23rd, a day when Resolution of Pakistan was passed. 75 years later, many of us are questioning about what is wrong with the country. While many of us ask that, its imperative that we also go into the reasons for errs and understand them.

Pakistan at its creation became an orphan. With the death of Mr Jinnah, Mr Liaquat Ali Khan and other visionary leaders, the country was left hopeless. Little to no infrastructure, massive unemployment and illiteracy on extensive levels became a hurdle in fulfilling the very first requirement i.e, good economy and governance. It resulted in hostile environment between different ethnic groups. That and the game of hide and seek between democratic and military rules gave birth to people like Yahya, Mujib and Bhutto. History is very cruel because in its rear-view mirror, their quarrelsome behavior paired with Indian invasion of Pakistani soil became the reasons for independence of Bangladesh.

Another reason for crisis in the country was sectarian divide which was fueled by proxy wars waged by Saudi Arabia and Iran. Since all governments failed to address this troublesome issue, it got out of hand, to perplexed and perturbed levels. The biggest catalyst that precipitated the problem were the Mullahs with their lethal and pernicious Khwarij allies. Their deleterious and homicidal approach brought shame to both Pakistan (in general) and Islam (in particular). Illiteracy and oblivion on the part of masses also played a role in adding fuel to the fire.

Pakistan even witnessed failures on political level. Different parties using popular slogans like Roti, Kapra, Makan (Food, clothing, shelter), empowerment of Middle Class and Roshan Pakistan (Brightened Pakistan) to gain political mileage. In reality, they were mafias fighting to gain control of land using manifestos and voters. The balloters were obligated, coerced, repressed and intimidated in the name of democracy. As a result, a culture of fear prevailed in the society where deviance and aberration of truth became a norm.

The deceits of our political elite didn’t see an end. Disinformation and distortion of everything from historical facts to economy produced a hatred for the country, and its rulers. Pakistan started witnessing a debut of generation that lost connection with its forefathers, its culture, yesteryears and most importantly, its National Language, Urdu. English and Hindi movies got silently promoted which destroyed the Pakistani Identity.

Although Print and Electronic Media enjoys respect and fame in the country, their role cannot be denied in the perversion of facts. I blame them for their failure to curb the threat Pakistan was facing. It even failed in naming the “force” that crippled the security situation in the country. Airing the lies of politicians who claim to bring people together raise questions on their credibility. They are equally responsible for the crisis Pakistan is facing. Breaking News Syndrome and continuous looping of images after a tragic event have made Pakistanis a depressed nation. Moreover, media did little to nothing to promote the National Language, resulting in (almost, if not complete) obliteration of Urdu vocabulary.

The solutions to the above described problems are difficult but not impossible. Reviving the vision of Mr Muhammad Ali Jinnah. He said “Unity, Faith, Discipline”. Looking at the words of Quaid, I can see that he is referring to Madinat Al Nabi (ص) where Prophet Muhammad ص established Unity between Mohajireen (people who left Makkah) and Ansar (locals of Madinah). To ensure economic equality, He told the Ansar to help the Mohajireen in every way possible as the former were well off compared to the latter. Faith in The God of Abraham ع made their brotherhood even more stronger. Here, its important to note that history briefly gives them a distinction (Mohajireen and Ansar) and after that becomes (permanently) silent on the sobriquets. The Madinah Pact (Meesak e Madina) is the best illustration of Discipline, which I consider an excellent example of interfaith harmony, tranquility and tolerance.

Using the constitution of Pakistan, we need people who are honest, virtuous and forthright in their conduct. In the population of 180 million, they are not hard to find. Begin with technocrats with exemplary service to the country and those who also understand the dynamics of our religion, culture and society in the context of modern times.  To improve the economy, noble people like Nabi Yusuf (PBUH) should be brought on board. Academic institutions, colleges and universities need to be contacted. Hire teachers and professors who have dedicated their lives in their field of study. Input from students would be needed to bring new ideas on the table. Religious institutions must play their part in promoting tolerance and congruity.  Extensive studies of The Madinah Pact (Meesak e Madinah) as well as The Last Sermon (Khutbah Hijatul Wada’a) and other historical events should be done using modernistic approach.

Collaboration with the minorities should also be on our list of priorities. As much as Pakistan is ours, its equally theirs. Lets reach out, connect and cooperate with them. Make them a part of our society and engage them in making Pakistan better than before. Together, lets give a message of Quaid e Azam to the world that “There is no force that can undo Pakistan”.

Long Live Pakistan.

Pakistan Zindabad.

—————————————————————-

Follow Me On Twitter: @periqlytos

پاکستانی جمہوریت ۔۔۔ ایک پر تعیش انتقام

بسم اللہ الرحمن الرحیم

پاکستان ہمارا ملک اور جمہوریت اس کی خوبصورتی ہے۔ جب سے اس طرز حکومت نے اپنی شان دکھائی ہے، اس اسلوب حکمرانی کی عظمت و کبریائی بیان کرتے ہوئے دل باغ باغ اور سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ جھولی پھیلا کر دعا رہتی ہے کہ پاکستانی جمہوریت پھلے پھولے اور اس کے پروان چرھانے والوں کو فرعون کے درجے نصیب ہوں۔ گِلہ ما بدولت کو پاکستانیوں سے ہے جو ہمیشہ کی طرح ناشکرے واقع ہوئے ہیں۔ اتنا کچھ ملنے کے باوجود قناعت پسندی اور توکل دوستی کی بجائے کفران جمہوریت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔

دیکھئیے جناب! ملک میں جمہوریت لانے والے آپ اور مجھ جیسے گناہ کار تھے؟ نہیں۔ بلکہ یہ وہ اعلی ہستیاں ہیں جنہوں نے میثاق جمہوریت کی چادر زیب تن کی، واشنگٹن کا طواف کرکے این آر او کی گنگا میں غسل کیا۔ ہم تو شاید ان کی خاک کے برابر تو کیا، ان کی کاوشوں کا صدیوں تک ادراک بھی نہیں کر سکتے۔ آئین کی بحالی کیا ہوئی، زندگیوں میں تو رس ہی گھل گیا۔ بجلی اتنی ملی کہ راجہ پرویز اشرف نے نہ صرف لندن میں کْٹیا خریدی بلکہ پاکستان میں ہر گھر کو میڈیا ہاوس میں بدل کر اس کے مکینوں کو ایکزیکیوٹیو وائس پریزیڈنٹ لگا دیا۔ یہ بلکل جھوٹ ہے کہ بائیس بائیس گھنٹے بجلی نہیں آتی۔ بجلی ہے۔ اگر لوگوں کو نظر نہ آئے تو سیاست دانوں کا کیا قصور۔ پاکستانیو! تمہیں چوں چاں کرنے کی عادت ہے۔ کوئی ڈھنگ کا کام سیکھو۔ ہر وقت بولا مت کرو۔

ٹینا ثانی کا گانا تھا “کوئی بات کرو”۔ تو چلو! بات کرتے ہیں اناج کی۔ اسکی اتنی فراوانی ہے کہ لوگ سیر شکم ہونے کی وجہ سے مر رہے ہیں۔ ہر گھر میں آٹے، دال اور چاول کی بہتات نے تھر میں قحط کو کذب و خرافات کی عملی شکل قرار دے دیا ہے۔ میڈیا کو عراق میں وسیع پیمانے پر تباہی کے ہتھیار تو مل نہ سکے، تھر کی غربت کیسے مل گئی؟ میڈیا کیا جانے کہ تھر کے لوگ غربت پسند ہیں اور افلاس و افتقار ان کا فخر ہے۔ بس خواہ مخواہ ریٹنگز اور سنسنی پھلانے کی غرض سے بغیر تصدیق کے خبر چلا دیتے ہیں۔ قائم علی شاہ مدظلہ فرماتے ہیں کہ “تھر میں بچے بھوک سے نہیں، غربت سے مرے ہیں”۔ دراصل، ان کا مطلب یہ ہے کہ تنگی و محتاجی صرف جمہوریت سے حل ہوتے ہیں، خوراک سے نہیں۔ تھر کے لوگوں کو کیا معلوم کہ “بھٹو زندہ ہے” جیسے شبدوں کا وزن کروڑوں کیلوریز کے برابر ہے۔ یہ الفاظ روٹی سے تو نہیں، البتہ قبر کی مٹی سے پیٹ ضرور بھر سکتے ہیں۔ جب ریت نارِ شکم بجھا رہی ہے تو شکایت کیوں؟ تھر کے لوگوں کو چاہئیے کہ پاکستانی جمہوریت کا انکار کرکے احسان فراموش مت ہوں۔

اب کچھ بات صحت کی ہوجائے۔ بقول غالب کہ “تندرستی ہزار نعمت ہے”۔ انہوں نے یہ بات نشے میں کہی تھی اور چونکہ شراب ام الخبائث ہے، وہ اس چیز کو سمجھنے سے قاصر رہے کہ پاکستانی غریب کا علاج جمہوری ٹیکوں میں پنہاں ہے چاہے وہ معاشی صورت میں لگے یا دوائیں منڈی سے غائب کرنے کی صورت میں۔ ہسپتال بهلے ہی ابلتے گٹروں کا منظر پیش کرتے رہیں، بس “آئین” کی جھلک سے میعاد ختم ہونے والی تمام دوائیں جمہوری ہو جائیں گی۔ یہ بات قابل غور ہے کہ قوم کی خیرات پر پلنے والے سیاست دان بیرون ملک علاج کے بعد بھی جمہوری رہتے ہیں اور عوام جمہوری ٹیکوں کے لگنے کے باوجود بھی غیر جمہوری۔ خیر۔ علاج، علاج ہوتا ہے، جمہوری ہو یا غیر جمہوری۔ اچھی صحت پر صدر پاکستان کی “ممنونیت” کا اعتراف کرکے جمہوریت کو دوام بخشیں۔

اب رخ کرتے ہیں گورننس کی۔ یہ ایک ایسی سادگی کا نام ہے جس پر کون نہ مرجائے اے خدا۔ اس پر بھی جمہوریت نے ڈیرے اور ڈورے ڈالے ہوئے ہیں۔ تمام جماعتوں کی پرفارمنس ایسی کہ بیان کرتے ہوئے دل سے لڈو پھوٹیں۔ کوئی سانحہ اٹھائیں۔ نشانہ وار قتل (ٹارگیٹ کلنگ) فرقہ وارانہ فسادات، لسانی دہشت گردی، ماڈل ٹاون کا سانحہ، آزادی اور انقلاب مارچ پر فائرنگ، معزور لوگوں پر تشدد، کم سن بچوں پر لاٹھی چارج، اور حالیہ دنوں میں پیٹرول کا بحران۔ سب عوام کا قصور ہے۔  عوام جمہوری کاموں میں (بقول نجم سیٹھی کے) انگلی کرتے ہیں، تو پھر خمیازے بھی بھگتنے پڑتے ہیں۔ رعایا کی یہ مجال کہ جمہوریت کی راہ میں رکاوٹیں ڈالے؟ لوگ اپنے آپ کو گالیاں دلوانے کے لیے ہی تو سیاست دانوں کو ووٹ دیتے ہیں۔ عوام یہی تو چاہتی ہے کہ اسے غدار، بدبودار، بھکاری، عجیب مخلوق اور اردو میڈیم جیسے القابات سے نوازا جائے۔ ان کی بہتری اس میں ہے کہ اپنا جمہوری حق استعمال کرکے زندہ دلی کا ثبوت دیں کیونکہ مردہ دل کیا خاک جیا کرتے ہیں؟

آخر میں مودبانہ گزارش ہے کہ جب پاکستانی جمہوریت کو دیکھیں تو بانہیں پھیلا کر اسکی بلائیں لیں، اسے چومیں، چمکاریں اور اسے پیار سے رکھیں۔ الغرض جمہوری شہدے (شودے) بن جائیں۔ اگر کوئی جمہوریت کو نوٹس دے، تو بابر اعوان کی طرح کہہ اٹهیں کہ۔
نوٹس ملیا، ککھ نہ ہلیا
جمہوریت نو کیوں گلہ کراں
میں لاکھ واری بسم اللہ پڑھاں۔

______________________________________

ٹویٹر پر اتباع کریں
@periqlytos

Tharparkar, An Illustration of Bhuttoism

I Begin With The name of Allah, The Compassionate, The Merciful

I am never short of words when it comes to writing, but the catastrophic conditions in Thar are not only undescribable but are also a slap on the face of humanity. The naked dance of hunger, destitution and famine can put Bollywood item songs to shame. But what could be done when champions of “democracy” move on after feeding the masses with their empty slogans, making the poor and deprived people of Thar wonder if their purpose of vote was to face indigence and privation.

Today, 86 year old Qayim Ali Shah, woke up from an unrestricted sleep. With 94 shiny cars and 250 policemen, he came to visit Thar. Boarding and Lodging was arranged for This Royal, I mean, “Democratic” Caravan. The fact that it was all taken care of by tax payers money, “Thar-ians” were not even asked, much less offered anything. The “sailors” of the drowning Titanic of Constitution were fed with delicious and delighful cuisines but the owners of Thar’s barren lands with frail animals kept looking for the left overs of bread and clean water. This deed of “planners of Democracy” poked fun at the poverty of my brothers. Judging from that, I can say that the slogan of “Food, Clothing and Shelter” has been “ruthlessly implemented” in Thar and Interior Sindh.

The aid given by Provincial Government also proved to be an act of treachery and perfidy. Thousands of tons of wheat and mineral water got wasted. To top it off, mobile clinics were taken over by high ranking police officials and politicians as embellishers. What added fuel to the fire was the ignorant statement of Qayim Ali Shah that “Kids in Thar have died because of poverty and not hunger”. Perhaps, that alcoholic ignorant doesnt realize that hunger and starvation are caused by penury. Whether Shah said those words intentionally or otherwise, it is proved that Pakistan Peoples Party is avenging the death of its founder in the garb of Democracy.

PPP has been getting votes from the innocent and uninformed, using the name of its deceased and giving them death in return. Taking a look at the history, we learn that Mr Bhutto raised a slogan of “Food, Clothing and Shelter” which was never fulfilled. The manifesto is the same after 36 years but results are nowhere to be witnessed. Today, Bhutto’s legacy is “Hunger, Shroud and Grave” which is being witnessed in Interior Sindh, especially, Thar. There, the images of deprivation and destitution only show what has been passed down to future generations.

————————

Follow me on Twitter @periqlytos

تهرپارکر- بهٹو ازم کی منہ بولتی تصویر

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یوں تو قلم بینی کے لیے مابدولت کے پاس الفاظ کی کمی نہیں مگر تهر کی ناگفتہ بہ صورت حال نہ صرف بیان سے باہر ہے بلکہ انسانیت کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ بهی- یہاں بهوک، افلاس اور مرض کا ننگا ناچ شاید بالی ووڈ کے آئٹم سانگز کو شرما دے- مگر کیا کیجئیے جناب، جمہوریت کے علمبردار اپنے کهوکهلے نعرے لگا کر آگے بڑہ جاتے ہیں اور بے چاری روٹی کی ماری تهر کی عوام صرف یہ سوچتی رہ جاتی ہے کہ کیا مفلسی اور تنگدستی کا لبادہ اوڑهنے کے لیے ہی سیاست دانوں کو ووٹ دیےتهے۔

آج 86 سالہ قائم علی شاہ، خواب راحت سے اٹھ کر 94 فراٹے بهرتی گاڑیوں اور 250 پولیس اہل کاروں کے ساتھ تهر میں آ دهمکے- اس شاہی، میرا مطلب جمہوری قافلے کے قیام و طعام کا بندوبست ہوا- اس بات سے قطع نظر کہ اسکا انتظام بهی غریب عوام کے پیسوں سے ہوا، تهر کے عوام کو جهوٹے منہ پوچها تک نہ گیا- یہاں مرغن اور لذیذ کهانوں نے آئین کے ڈوبتے ٹائیٹینک کے ملاحوں کو خوب سیر کیا مگر تهر کے بنجر کهیتوں اور لاغر جانوروں کے مالک، روٹی کے جوٹهے ٹکڑوں اور صاف پانی کی بوندوں کو ترستے رہ گئے- “مدبرین جمہوریت” کی یہ ادا میرے بے کس و بے بس تهر کے بهائیوں کی غربت کا منہ چڑاتی رہی- ان نظاروں کو دیکھ کر راقم کو یہ کہنے میں عار نہیں کہ روٹی، کپڑے اور مکان کے نعرے کو تهر اور اندرون سندھ کے علاقے میں سفاکانہ انداز سے نافذ کیا گیا ہے۔

حکومت سندھ کی دی گئی امداد بهی نظر کا دهوکہ اور مکر و فریب کا نمونہ نکلی- ہزاروں ٹن گندم خاک کی نذر ہوگئی اور منرل واٹر کی بوتلیں ضائع ہوگئیں۔ ستم یہ کہ موبائل ڈسپنسریز پولیس کے اعلی عہدے داروں اور سیاست دانوں کے گهر اور فارم ہاوسز کی زینت بن گئیں- پهر جلتی پر تیل کا کام قائم علی شاہ کے جاہلیت میں لتهڑے قبیح بیان نے کر دیا کہ “تهر میں بچے بهوک سے نہیں، غربت سے مرے ہیں”- شاید شراب کے نشے میں دهت اس فقید العقل انسان نما درندے کو یہ ادراک نہیں کہ بهوک اور فاقے غربت سے آتے ہیں- ناجانے یہ بات سہواً کی گئی یا عمداً، ایک بات تو ثابت ہو گئی کہ پی پی پی، جمہوریت کا لباس پہن کر بهٹو کی موت کا بدلہ تهر کے لوگوں کو مار کر لے رہی ہے۔

یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ پیپلز پارٹی شہیدوں کے نام پر اور معصوم لوگوں کو دهوکہ دے کر ووٹ کے بدلے موت دیتی رہی ہے، وہ بهی ارزاں قیمت پر- تاریخ کے دریچوں میں دیکها جائے تو پتہ چلتا ہے کہ بهٹو صاحب کا نعرہ روٹی، کپڑا اور مکان تها جو پورا نہ ہو سکا- 36 سال بعد بهی وہی نعرہ مگر نتائج ندارد- بهٹو کا ورثہ اب بهوک، کفن اور قبر ہو چکا ہے جسکی عملی مثال ہمیں اندرون سنده، بالخصوص تهر میں نظر آ رہی ہے۔ اب محتاجی اور مسکینی کے دلخراش مناظر چیخ چیخ کر دنیا سے یہ کہہ رہے ہیں کہ
“کل بهی بهٹو زندہ تها، آج بهی بهٹو زندہ ہے”

_________________________

ٹویٹر پر اتباع کیجئیے
@periqlytos