شہباز شریف کا تابناک ماضی

ٹہنی پہ خموش اک پرندہ

ماضی کے الٹ رہا ہے دفتر
رئیس امروہوی کے اس شعر کے مصداق راقم الحروف ماضی کے جھروکوں کو جھانکتے اور اخباروں کی خاک چھانتے ہوے مستقبل کے وزیر اعظم میاں محمد شہباز شریف کا ماضی ٹٹول رہا تھا۔ ہر جگہ حدیبیہ اور (تین سال پہلے) سانحہ ماڈل ٹاون کے قصے نظر آئے مگر ایک ایسی خبر دیکھی جس نے چونکا کر رکھ دیا۔ مزید اور تحقیق کی تو کچھ چیزیں بھی سامنے آئیں جنہیں میں اپنے پیارے ہم وطنوں کے آگے رکھنا چاھوں گا۔ یہ بھی عرض کردوں کہ محترم عدلیہ کا شریف خاندان کو دیے گئے “گاڈ فادر” اور “سیسلین مافیا” جیسے  القابات کو ذہن میں رکھ کر اگلی سطریں پڑھی جائیں۔ 
چھوٹے میاں صاحب کو یاد ہوگا کہ جب 1998 میں وہ پنجاب کے وزیر اعلی تھے تو پنجاب پولیس میں ماورائے عدالت قتل کی وارداتیں بہت عام تھیں۔ پنجاب پولیس کا نوید بٹ، المعروف، نیدی پہلوان، انڈر ورلڈ کے گینگسٹر، تیفی بٹ کے ساتھ مل کر وارداتیں کرواتا تھا۔ اسی سال نیدی پہلوان نے حنیفا نامی ایک بدمعاش کو گرفتار کرکے پابند سلاسل کردیا۔ دوران حراست، حنیفا نے کہا کہ اگر اسکو رہا نہ کیا گیا تو وہ شریف برادران کی اصلیت قوم کے سامنے لے آئے گا۔  نیدی نے یہ بات شہباز شریف کو بتائی اور بعد ازاں ان کے حکم پر حنیفا سمیت، شفیق، ہمایوں گجر، ثنا گجر، ناجی بٹ اور کالی کو ماورائے عدالت قتل کروا دیا۔ نیدی پہلوان کو پولیس فورس سے نکال دیا گیا، نیب نے کیسز بنا دیے اور وہ برطانیہ فرار ہوگیا۔ 2005 میں وہ اپنی برطانوی نژاد بیوی اور بچوں کے ہمراہ واپس وطن پہنچا اور رئیل اسٹیٹ کے کاروبار سے منسلک ہوگیا۔ نومبر میں کسی زمین کے تنازعے پر اسے اسکے محافظوں، مقصود احمد (عرف پٹھانے خان) اور نصیر خان سمیت گولیاں مار دی گئیں۔ نیدی پہلوان موقع پر ہلاک، مقصود احمد ہسپتال جاتے ہوئے دم توڑ گیا جبکہ نصیر خان کو شدید زخمی حالت میں ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ اسکے بعد سے یہ قضیہ سرد خانے کی نذر ہوچکا ہے۔
سنہ 2008 میں شہباز شریف جب صوبائی الیکشن کے لیے نامزد ہوئے تو ان پر اسی ماورائے عدالت قتل کا الزام تھا جسے انہوں نے عدالت سے “ڈسمس” کروایا۔ وکی لیکس کے مارچ 2008 کیبلز کے مطابق انکی انتخابی مہم پر سعودی عرب نے بے پناہ رقم خرچ کی تھی۔ یہیں سے بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ ن لیگ کے کالعدم تنظیموں سے تعلقات ہیں۔ اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ریٹائرڈ کرنل شجاع خانزادہ صاحب کو وزیر داخلہ پنجاب لگایا گیا مگر انہیں اگست 2015 میں شہید کردیا گیا۔  شاید یہی وجہ ہے کہ پاک فوج، پنجاب میں آپریشن نہیں کرپا رہی۔ 
میری سپریم کورٹ سے مودبانہ درخواست ہے کہ مندرجہ بالا بیان کیے گئے واقعات کی مزید تفتیش کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دی جائے۔ نیز اس چیز کی بھی تحقیق کریں کہ شریف برادران فارن فنڈنگ کے ذریعے ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔ بیس کروڑ عوام میں صادق و امین لوگوں کو ڈھونڈنا مشکل نہیں۔ ملک انصاف کی راہ پر تو چل نکلا ہے۔ اُسے اسی پٹری سے اتار کر واپس اسے مایوسیوں کے اندھیروں میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ بہترین لوگوں کو لا کر ہی پیارے وطن کی تقدیر بدلی جا سکتی ہے۔ شاید عدلیہ کے حالیہ فیصلے نے امید کچھ یوں دلا دی ہے
ہمیں خبر ہے کہ ہم ہیں چراغ آخر شب

ہمارے بعد اندھیرا نہیں اجالا ہے

پانامہ قضیہ،مسئلہ فلسطین اور پاکستانی میڈیا

پانامہ کے ہنگامے نے ملکی میڈیا کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ ہر صحافی اور اینکر اپنے انداز اور مختلف زاویوں سے آراء قائم  کرکے خبروں کا پیٹ بھر رہا ہے۔ نواز شریف کی نا اہلی کے فیصلے عدالت کی بجائے تبصروں سے ہو رہے ہیں۔ کہیں بھولے سے یہ خبر آئی کہ برازیل کے سابق صدر لویز ایناسیو دا سیلوا کو کرپشن کی پاداش میں دس سال کے لیے جیل ہوگئی مگر ان کی کرپشن پر کوئی تبصرہ نہیں ہوا۔ (وہ جاننے کے لیے میری بلاگ پوسٹ یہاں پڑھئیے)۔ یوں سمجھ لیجئے کہ بے جا و بے ہنگم تبصروں نے ہمارے میڈیا کو تجزئیات کے سنڈاس میں یوں بدل دیا ہے کہ اس سے نکلنا بہت حد تک محال نظر آتا ہے۔ 

انبیاء علیہم السلام کی سرزمین، ارض فلسطین میں حالیہ بے چینی پانامہ کی لفاظیوں کی نذر ہوگئی ہے۔ 14 جولائی کو، مسجد اقصی شریف کے قریب دو اسرائیلی پولیس افسروں کو قتل کردیا گیا، جس کا الزام فلسطینیوں پر لگا اور اجتماعی خمیازہ بھی انہی کو بھگتنا پڑا۔ اگلے ہی دن، مسجد اقصی، 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد پہلی مرتبہ نماز جمعہ کے لیے بند کردی گئی۔ مسجد کے امام، شیخ محمد احمد حسین نے اسرائیلی پابندیوں کے خلاف، دس ہزار نمازیوں کی امامت کی۔  نماز کے فوری بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا جس کے بعد فلسطینیوں اور اسرائیلی فوجیوں کے بیچ جھڑپیں شروع ہوگئیں۔ صدر محمود عباس ابو مازن، کچھ دن بعد، خواب غفلت سے بیدار ہو کر اچانک متحرک ہوئے اور مسجد اقصی میں اسرائیلی پابندیوں کے خلاف “یوم الغضب” کا اعلان کر گئے۔ فلسطینی، سڑکوں پر نکل آئے۔ قابض فوجیں بھلا کہاں چپ رہتیں، ڈرپوک صہیونی، نہتے فلسطینیوں سے الجھ گئے اور ان پر ربر بُلیٹس فائر کردیں۔ نتیجتاً، سینکڑوں زخمی ہوگئے جن میں یوروشلم کے سابق مفتی، شیخ عکرمہ صبری بھی شامل تھے۔ ہمارے میڈیا اور سوشل میڈیا میں اس واقعے کو کتنی کوؤریج ملی، اسکا آپ خود اندازہ لگا لیجئیے۔ 

مسجد الاقصی

میرا میڈیا سے ایک چبھتا سوال ہے کہ فلسطین جیسے اہم مسئلے پر بات کرنے سے کیوں ڈرتے اور کتراتے ہیں؟ کیا آپ کے مالکان نہیں چاھتے کہ قوم میں ردی برابر آگہی آئے؟ کیا آپ بھول گئے کہ صحافت میں بہادری کی مثال مولانا محمد علی جوہر ہیں، جنہوں نے کلکتہ میں “دا کومریڈ” نامی انگریزی اخبار نکالا جسے ہندوستان کے پڑھے لکھے نوجوانوں میں مقبولیت حاصل ہوئی۔ بعد ازاں دلہی میں اردو اخبار “ہمدرد” نکالا، جس میں انہوں نے بلقان کی 1911 اور 1912 کی اس جنگ کے بارے میں لکھا جس میں سربیا، بلغاریا، فرانس، اٹلی اور یونان نے برطانوی سامراج کے ساتھ مل کر خلافت عثمانیہ کی بنیادیں ہلا دیں۔ نتیجتاً، لیبیا پر اٹلی کا قبضہ ہوگیا۔ مولانا نے دونوں زبانوں کی اخباروں میں اس جنگ کے خلاف آواز اٹھائی اور برطانیہ کی بلقان ریاستوں ریاستوں کی مدد کی بھرپور مذمت کی۔ بعد ازاں خلافت عثمانیہ کے زوال کے بعد برصغیر اور مشرق وسطی، بالخصوص فلسطین میں دگرگوں ہوتے حالات پر اردو زبان میں قلم آزمائی کی۔

دا کامریڈ اور ھمدرد

 ان کاوشوں پر انہیں پابند سلاسل کردیا گیا۔ ان کی دونوں بیٹیاں ان کی زندگی میں علیل ہوگئیں۔ برطانوی راج نے چاہا کہ مولانا اس سے معافی مانگ لیں تاکہ وہ اپنی بیٹیوں کی عیادت کرسکیں۔ مگر انہوں نے برطانوی راج کے آگے سر جھکانے سے انکار کردیا۔ یوں، دونوں دختران، طویل علالت کے بعد اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ خود مولانا کی وفات لندن میں جنوری 1931ء میں ہوئی۔ انکا جنازہ فلسطین کے مفتی، امین الحسین نے پڑھایا اور انہیں وصیت کے مطابق، بیت المقدس الشریف کے قریب دفن کیا گیا۔ آج فلسطین میں انہیں “مجاھد العظیم مولانا محمد علی الہندی”، یعنی ہند کے مجاہدِ عظیم، محمد علی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ 

مولانا محمد علی جوہر کا مزار

ایک وہ میڈیا تھا جو صحیح اور درست خبروں سے قارئین کو آگاہ رکھ کر اپنی مثال قائم کرتا تھا اور ایک آج کا میڈیا ہے، جہاں منگھڑت اور پلانٹیڈ خبریں لگا کر قوم کو رسوا کیا جاتا ہے۔ اِن اداروں کے چلانے والے چند وہ لوگ ہیں جن کے چرِتّر اور کردار کے بارے میں بابا اقبال کہہ گئے تھے

جعفر از بنگال و صادق از دکن

ننگ آدم، ننگ دین، ننگ وطن

بے ڈھنگ اور لغویات سے بھرپور موضوعات کے چناو اور بے جہت گفتگو نے عوام کو ایک عجیب کیفیت میں مبتلا کیا ہوا ہے۔  میڈیا بریکنگ نیوز اور ریٹنگز کی دوڑ میں اندھے ہو کر “اندھے کو اندھیرے میں بہت دور کی سوجھی” کے مصداق، تمام اقدار پامال کر کے شرمناک حد تک آگے یوں نکل گیا ہیں کہ اصل معاملات کی طرف واپسی ممکن نظر نہیں آتی۔ پانامہ کے قضئیے کو ہی دیکھ لیجئیے؛ اس حد تک کوؤریج ہو رہی ہے جیسے دنیا کے دیگر موضوعات ہی ختم ہوگئے۔ کشمیر کا مسئلہ بھی بہت حد تک دم توڑ گیا ہے۔ آج فلسطین میں دوسرے ہفتے بھی مسجد اقصی نماز جمعہ کے لیے بند رہی۔ قابض صہیونی فوجوں کے ساتھ جھڑپ میں کئی فلسطینی شہید، اور بہت سے زخمی ہیں۔ میڈیا پر تبصرہ اور نہ ہی خبر پر نقد و نظر۔ بس، سناٹے کی مانند مکمل خاموشی اس کے تغافل کا پیغام دے رہی ہے۔ 
اگر میڈیا کی فلسطین کے معاملے پر سرد مہری کے بارے میں بازپرس کریں تو “آزادی صحافت” خطرے میں پڑ جاتی ہے اور “صحافتی اقدار” پامال ہوجاتی ہیں۔ امت ڈوب جاتی ہے تو ڈوبے۔ میڈیا کی بلا سے۔ بھلا وہ کیوں بابائے قوم کی فلسطین کی حمایت میں کی گئی تقریر سے قوم کو آگاہ کریں گے۔ حضرت قائد اعظم (رح) نے نومبر 8، 1945 کو فرمایا تھا؛ 

“ہم مسلمانانِ ہند، اس مسئلے (مسئلہ فلسطین) پر عرب دنیا کے ساتھ ہیں۔ یہ سوال یہودیوں کا فلسطین کو اپنا وطن بنانے کا نہیں، بلکہ یہودیوں کا برطانوی خنجروں اور امریکی پیسوں سے فلسطین کو دوبارہ فتح کرنے کا ہے جسے وہ دو ہزار سال پہلے کھو چکے تھے۔ مجھے یہودیوں سے کوئی دشمنی نہیں۔ میں جانتا ہوں کہ مہذب یورپ میں انکے ساتھ بہت برا سلوک ہوا ہے۔ اگر انہوں نے فلسطین کو دوبارہ فتح کرنا ہے تو عربوں کا سامنا، برطانوی اور امریکی مدد کے بغیر کریں”۔ 

قائد اعظم، محمد علی جناح، علیه الرحمه

اپنی وفات (ستمبر 11، 1948) سے دو ہفتے قبل، 27 اگست 1948 کو عید الفطر پر قوم کو یہ پیغام دے گئے؛

“میرا پیغام برادر مسلم ممالک کو دوستی اور نیک تمناوں کا ہے۔ ہم ایک خطرناک دور سے گزر رہے ہیں۔ فلسطین، انڈونیشیا اور کشمیر میں طاقت اور اقتدار کا کھیل کھیلا جا رہا ہے جو ہماری آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہیں۔ اسکا مقابلہ ہم متحد اور یک زباں ہو کر ہی عالمی ضمیر تک پہنچا سکتے ہیں”
قائد اعظم اس دنیا سے پردہ کرگئے مگر فلسطین کا مسئلہ ان کے دل و دماغ پر چھایا رہا۔ کاش، ہمارا میڈیا تاریخ کے دریچوں میں جھانک کر کچھ سبق حاصل کرے، اور اپنے آپ سے سوال کرے؛ کہ کیا وہ ہمیں متحد کر رہا ہے یا منتشر؟ کیا صحافت کی آڑ میں ہمیں دیگر موضوعات میں الجھا کر مخصوص مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے؟ کہیں اندھی تقلید نے اس کو غیروں کا مقتدی تو نہیں بنا دیا؟
مولانا ظفر علی خان صاحب کا یہ شعر میڈیا کے لوگوں کے لیے چھوڑے جاتا ہوں
قلم سے کام تیغ کا، اگر کبھی لیا نہ ہو

تو مجھ سے سیکھ لے یہ فن اور اس میں بے مثال بن

مولانا ظفر علی خان

ہر چند، سلام سندیلوی کی یہ بات بھی سامنے آتی ہے

یہ تو معلوم ہے، ان تک نہ صدا پہنچے گی

جانے، کیا سوچ کے آواز دیئے جاتا ہوں


مگر امید پر دنیا قائم ہے۔ ایک آس ہے۔ شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات

_______________________________

ٹویٹر پر اتباع کریں

@periqlytos

ڈان لیکس کے فیصلے کے بعد پاک فوج کی ہمت باندھنے کی ادنی سی کوشش

بسم اللہ الرحمن الرحیم

دیار غیر میں بیٹھے، گزشتہ دن، بدنامِ زمانہ، ڈان لیکس کے قضیے کا فیصلہ دیکھا۔ پہلے ہی مایوسی کیا کم تھی کہ غم کا ایک اور پہاڑ ٹوٹ گیا۔ سوشل میڈیا پر گیا، تو اس پر پاک فوج کے خلاف تنقید کے پُل بندھے دیکھے۔ ان گناہ گار کانوں نے یہاں تک سنا کہ دخترِ اول کے بچاو کی خاطر ملکی سلامتی کا سودا کردیا گیا- پھر الیکٹرانک میڈیا کا رخ کیا تو پتہ چلا کہ اس نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو کر، اس ناگزیر اقدام کے سیاق و سباق معلوم کیے بغیر، چیف آف آرمی سٹاف، جناب جنرل قمر جاوید باجوہ اور جی ایچ کیو پر  اعتراضات کھڑے کردیے۔ قوم، جو کچھ حد تک، بجا طور پر جہاں فوج کی خاموشی پر بے چین ہے، وہاں زمینی حقائق سے لاعلم ہو کر اپنے ہی اضطراب کو مزید ہوا دے رہی ہے۔

عزیزو! ڈی جی، آئی ایس پی آر، میجر جنرل آصف غفور صاحب کی پریس کانفرنس ایک بار پھر دیکھئیے۔ ان کے چہرے کے تاثرات، آپکو فوج کے ہر حاضر سروس اور ریٹائرڈ شخص کے احساسات کا پتہ دیں گے۔ اگر  چاہیں تو آپکو آپریشن ضربِ عضب کے ایام کی یاد دلاتا ہوں۔ اس وقت، پاک فوج کے ترجمان، جنرل عاصم سلیم باجوہ نے آپریشن کی کامیابی کے لیے جو فرمایا تھا، ذرا ملاحظہ کیجئیے۔

 

میں چاھتا ہوں کہ آپ ان کی دوسری ٹویٹ کا سکرین شاٹ دوبارہ دیکھیں۔ اسکا آسان اردو میں ترجمہ یہ ہے

“قوم، دہشت گردی اور انتہاء پسندی کے خاتمے کے لیے فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ تاہم، چیف آف آرمی سٹاف (جنرل راحیل شریف) نے “ہم پلہ” گورننس کی ضرورت پر زور دیا ہے”۔ مطلب یہ کہ فوج آپریشن سے قبل، شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے خلاف تمام ثبوت اکٹھے کرچکی ہے۔ اب جس تیز رفتاری کے ساتھ فوج آپریشن کے نتیجے میں گرفتاریاں کر رہی ہے، عدالتوں کو بھی اسی رفتار سے سزا سنا کر مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانا چاھئیے، تا وقت یہ کہ ان مجرموں کے سہولت کاروں تک سے بھی نمٹ لیا جائے۔ یہی آپریشن ضربِ عضب کی کامیابی کی کنجی ہے۔ سادہ الفاظ میں، تمام نیشنل ایکشن پلان کو جنرل عاصم باجوہ نے دو ٹویٹس میں سمو دیا۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا گورننس بہتر کرنا فوجی اداروں کا کام ہے یا سویلین اداروں کا؟ اسکا جواب، آپ بخوبی جانتے ہیں۔ 

اگر عدالتیں کام کر رہی ہوتیں، اور پانامہ قضئیے کا درست فیصلہ سامنے آتا، تو نہ صرف ملک میں امن عامہ ہوتا بلکہ دشمن محاذ کھولنے کی جرات نہ کرتا۔ مگر عدم انصاف نے ملک میں اندرونی اضطراب و خلفشار کو جنم دیا۔ ملک کے دشمن بھی ناگفتہ بہ حالات دیکھ کر شیر ہوگئے۔ ایل او سی اور چمن بارڈر پر حملے شروع ہوگئے- زخموں پر نمک پاشی کا کام پاک ایرانی سرحد پر کشیدگی نے کردیا۔ اسی اثناء میں کراچی، اندرون سندھ اور بلوچستان آپریشن اور سب سے بڑھ کر، آپریشن رد الفساد بھی شروع ہوا۔ مردم شماری کا بیڑا بھی فوج نے نہ چاھتے ہوئے اٹھایا۔ یہی تکالیف کیا کم تھیں کہ سجن جندال کی پاکستان آمد نے ڈان لیکس کے لیے مسئائل کھڑے کردئیے۔ تمام حقائق اور ذمہ داران کی نشاندہی ہونے کے باوجود فوج ایک قدم پیچھے محض اس لیے ہٹی کہ ملک خداداد میں آگ ہر جانب لگی ہے اور بجھنے کا نام نہیں لے رہی۔ شاید فوج کلبھوشن یاداو کی پھانسی تک اس قضئیے سے دور رہے۔ 

میری عوام اور میڈیا سے صرف ایک گزارش ہے؛ تنقید فوج پر اس وقت کریں جب آپ خود ان کی جگہ پر ہوں، ہر محاذ پر خود لڑیں، دشمن کا صفایا خود کریں، بھوکے پیٹ خود سوئیں، جان آپ کی جائے، معذور آپ ہوں، اپنے پاوں پر خود کھڑے ہوں اور خود ہمت کریں۔ اگر نہیں، تو اپنی زبانوں کو لگام دے کر رکھیں۔ ہر قسم کی قربانی فوج دے اور آپ کی گالیاں اور شتائم کا نشانہ بھی وہ بنے؟ میڈیا اینکرز اور سرخی پاوڈر لگانے والوں سے صرف ایک ہی سوال کرتا ہوں۔ اپنا ماضی ٹٹول کر اور اپنے آپ کو چبھتی حقیقت کے آئینے کے آگے رکھ کر اپنے آپ سے سوال کیجئیے کہ وہ کون تھا جس نے آپکی آواز کو دنیا تک پہنچانے کا سامان کیا؟

براہ کرم، فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں کیونکہ ملک خداداد کو  بچانا ہم سب کا فرض ہے۔ یہ کام وہ اکیلے سر انجام نہیں دے سکتے۔ پاک فوج اور پاکستانی عوام یک جان، دو قالب ہیں۔ ہمیشہ ان کی کامیابی کے لیے دعا گو رہیں۔ ہمیں یہ یاد رکھنا چاھئیے کہ جب قوم ناامید تھی تو اسکو سہارا فوج نے دیا۔ آج وہ خود آزمائش سے دو چار ہیں تو ہمیں چاھئیے کہ ان کی ہمت باندھیں، نہ کہ نکتہ چینی کرکے اور انہیں زک پہنچا کر انکی مشکلوں میں اضافے کا باعث بنیں- قرآنِ مجید کی مندرجہ ذیل آیات پڑھئیے اور فوج کے ساتھ قدم ملا کر ملک کو آگے بڑھائیے۔

اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! اپنے دفاع کا سامان پکڑو۔ پھر گروه بن کر کوچ کرو یا سب کے سب اکٹھے ہو کر نکلو۔

اور یقیناً تم میں ایک شخص وه ہے جو حیلے بہانے کرتا ہے، اگر اللہ تمہیں کسی آزمائش سے دو چار کرے، تو کہتا ہے کہ اللہ نے مجھ پر بڑا فضل کیا کہ میں ان کے ساتھ موجود نہ تھا۔

اور اگر تمہیں اللہ (آزمائش کے بعد) فتح یاب کرے تو اس (حیلے بہانے کرنے والے) کی کیفئیت یہ ہوتی ہے کہ تم میں اور اس کے درمیان کبھی تعلق تھا ہی نہیں، وہ (ٹھنڈی آہ بھر کر) کہتا ہے کہ اے کاش! اگر میں بھی ان کے ہمراه ہوتا تو بڑی کامیابی کو پہنچتا۔ (النساء: 71 تا 73

اب یہ آپ پر ہے کہ کس گروہ کا حصہ بننا چاھتے ہیں؛ اس کا، جسے اللہ آزمائش میں ڈال کر کر کامیاب کرتا ہے یا اسکا، جو ٹھٹھہ، مذاق اور بہانہ جوئی کے بعد کفِ افسوس مَلتا ہے۔ فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں۔

پاک فوج زندہ باد

پاکستان پائندہ باد

____________________________

ٹویٹر پر اتباع کیجئیے

@periqlytos

پانامہ کیس اور عدلیہ

1200px-Emblem_of_the_Supreme_Court_of_Pakistan.svg

بسم اللہ الرحمن الرحیم


مجھ نادان و انجان کو کچھ عرصے سے میڈیا کی بدولت ایک فقرہ سننے کو ملتا تھا کہ “عدلیہ پر بات نہیں کی جا سکتی، ان کے فیصلوں پر تبصرہ کیا جا سکتا ہے”۔ پھر خیال آیا کہ جب دینِ کامل کے حساس مسئلوں  پر ہر کس و ناکس، بخت آزمائی کرکے اپنے آپ کو دانشور کہلانے کی جستجو میں مگن ہے تو کیا عدلیہ دین سے بالاتر ہے کہ اس پر لب کشائی و خامہ فرسائی کو ناقابل بخشش جرم سمجھ کر چپ سادھ لی جائے؟ یہ سوال میں جس پس منظر کو سامنے رکھ کر اٹھا رہا ہوں، اس سے ہم سب واقف ہیں۔ جی ہاں، میرا واضح اشارہ پانامہ کیس کے فیصلے کی جانب ہے جس نے عدلیہ کے کردار کو پوری قوم کے سامنے برہنہ کردیا ہے۔ 

قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں عدل پر لا تعداد آیات موجود ہیں مگر ایک آیت ایسی ہے جس کا ایک حصہ سپریم کورٹ کے باہر درج ہے “فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ”۔ یہ سورة ص کی آیت نمبر 26 ہے۔ مکمل آیت یہ ہے، بعد اعوذ باللہ من الشیطن الرجیم
يَا دَاوُودُ إِنَّا جَعَلْنَاكَ خَلِيفَةً فِي الْأَرْضِ فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَلَا تَتَّبِعِ الْهَوَىٰ ‏فَيُضِلَّكَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ ۚ إِنَّ الَّذِينَ يَضِلُّونَ عَن سَبِيلِ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ بِمَا نَسُوا يَوْمَ الْحِسَابِ

اے داؤد! ہم نے تمہیں زمین پر اپنا نائب بنا کر بھیجا ہے، پس لوگوں میں حق و انصاف پر مبنی فیصلے کیا کرو اور کبھی مصلحتوں کی پیروی نہ کرنا، ‏ورنہ اللہ کے راستے سے بھٹک جاو گے۔ بے شک، جو اللہ کے راستے سے بھٹک جائیں، ان کے لئے سخت عذاب تیار ہے کیونکہ وہ یوم حساب کو بھلا بیٹھے۔

میں عدلیہ کے تمام ججز سے بصد ادب و احترام یہ سوال کرتا ہوں کہ پانامہ کے فیصلے کو مندرجہ بالا آیت کے تناظر میں رکھ کر دیکھئیے۔ اللہ جل شانہ نے کسی اور کو نہیں، آپ کو عدل کی بالا دستی کے لیے چنا، مگر آپ اللہ کے حکم سے ہی رو گردانی کرگئے۔ آپ کی اپنی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی قوم نے آپ پر اعتماد کیا، آپ نے غداروں اور لٹیروں کا ساتھ دیا۔ جنہوں نے عدلیہ پر حملہ کیا، وہ آج ملک کے حکمران، اسکے خزانوں کے مالک اور اسکی تقدیر کے سودائی بن گئے۔  آپ کی حالیہ تاریخ اٹھائیں تو پتہ چلتا ہے کہ قوم نے شخصیات سے نہیں، عدل سے امید لگائی۔ نتیجہ کیا نکلا۔ کیا محترمہ بے نظیر بھٹو کے قاتل پکڑے گئے؟ کیا این آر او کے تحت بخشش پانے والے مجرموں کو سزا ہوئی؟ کیا 2008 کے انتخابات میں دھاندلی کرنے والوں کو سزا ہوئی؟ کیا آئی پی پیز کے نام پر اربوں ڈالر ہڑپنے والوں کے خلاف کارروائی ہوئی، کیا بجلی چوروں کو کیفر کردار تک پہنچایا گیا، کیا شاہ زیب خان کے قاتل اپنے انجام کو پہنچے، کیا کامران فیصل کو انصاف ملا؟ کیا سنہ 2013 کے انتخابات، جس میں دھاندلی کے واضح ویڈیو ثبوت پوری دنیا نے دیکھے، کیا اس پر کوئی ایکشن ہوا؟ ماڈل ٹاون میں دن دہاڑے چودہ لوگ شہید اور سینکڑوں زخمی کر دیے گئے، اس کیس کا کیا بنا؟ جسٹس باقر علی نجفی کی رپورٹ کیوں دبا دی گئی؟ اور اب پانامہ کیس کا فیصلہ۔ سب سوالوں کا جواب آپ بخوبی جانتے ہیں۔

اس سوال کا جواب ضروری ہے کہ جسٹس جناب عظمت سعید شیخ کیا واقعی ہسپتال میں ایڈمٹ ہوئے تھے یا پسِ پردہ معاملہ کچھ اور تھا۔ اگر یہ بات سچ ثابت ہوجائے کہ کسی حکمت عملی کے تحت پانامہ کا فیصلہ متضاد دیا گیا تو پوری عدلیہ اللہ کی اور قوم کی مجرم ہے۔ اس فیصلے کے بعد عدلیہ مزید کسی قضئیے کی سماعت کا حق کھو دیتی ہے۔ نیز یہ، کہ ملک میں عدم انصاف کی وجہ سے انتشار، قتل و غارت، دہشت گردی، فرقہ وارانہ فساد اور معاشی زبوں حالی کی براہ راست ذمہ دار عدلیہ ہے۔
میری محترم عدلیہ سے ایک گزارش ہے؛ عوام کو آپ کے کسی دعوت میں بیانات  سننے میں کوئی دلچسپی نہیں، اسے عدل کی اشد ضرورت ہے۔ انصاف کرسکتے ہیں تو ایسا کیجئیے کہ فیصلہ اپنی مثال آپ ہو۔ اگر نہیں کر سکتے تو کم از کم سپریم کورٹ کے باہر قرآن مجید کی آیت “فَاحْكُم بَيْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ” کو ہٹا دیجئیے، تاکہ کم از کم آپ توہین قرآن کے مرتکب نہ ہوں۔ عوام الناس کو اتنا احساس ہوچکا ہے کہ انصاف سے امید کی لو آپ کے در پر آ کر بجھ جاتی ہے۔

اپنی تحریر کا خاتمہ صرف اس بات پر کروں گا کہ عدلیہ کا احترام سر آنکھوں پر۔ انکی تضحیک کبھی مقصود نہیں۔ مگر عوام کی لب بستگی اور صبر کا پیمانہ اب لبریز ہو چکا ہے۔ وہ کب تک انصاف کی راہ دیکھتے رہے گی۔ بقول (سیف الدین) سیفؔ

سیفؔ، اتنا بھی نہ کر ضبط کہ پھر ان کے حضور

خامشی درد کا اظہار نظر آنے لگے

 @periqlytosٹویٹر پر اتباع کریں۔


قصہ ایک پَتَر کا

تو عزیزو! ایک پَتر کا قصہ ہے جس میں شاہ جی کا بھی حصہ ہے۔ اس کی تحریر بھی کیا خوب ہے۔  مضمون نگاری ایسی، جو حاکم وقت کے لیے آزادی کا پروانہ بن کر پردیس سے آئی ہے۔ پُرشِکستہ سوالوں، روگ، صدموں اور بکھیڑوں سے دور لے جانے کی نوید لانے والا ایسا خط، بھلا ہم اعمالِ عصیاں کے مالک بد نصیبوں کو کہاں ملے۔ یہ کاغز، محض ایک نوِشتہ ہی نہیں، عطار کا شیشہ ثابت ہوکر عصرِ آفریں کی خبر بھی دے رہا ہے۔ ایسی چِٹھی ہمارے فرماں رواوں کو غالبا ہمہ تن حاضری میں کھڑا رکھنے اور حاطب اللیل بننے کی صلاحیت رکھے ہوئے ہے۔ یقیں نہ آئے تو مالکِ تخت کے باد فروشوں سے ہی پوچھ لیجئیے جو کبھی تو اپنی داستانِ حسرت سنا سنا کے روتے ہیں، تو کبھی مکابرے جتلا کر مجادلے کی دھمکی تک دے دیتے ہیں ۔

ایک چیز جو عرصہ اقل سے قابلِ دید رہی، وہ یہ کہ شاہ جی جب باہر جاتے ہیں تو اپنے یدِ مبارک میں ایک عدد پرچی رکھتے ہیں۔ خدا معلوم کہ اس کا کیا سبب۔ مگر حسنِ ظن رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ مکتوب الیہ کی تعریف و توصیف اور محاسن و مہربانیاں ضرور بیان ہوتی ہونگی۔ زمانے کے انداز تو بدلے ہی ہیں، شاید محبت نے یوں انگڑائی لی کہ ان پرچیوں کے عوض مکاتیب کو وقت کی ضرورت سمجھا گیا۔ جس میں جُھگیوں کا کا ذکر خیر ہے۔ شاید اس لئیے کہ چشمِ محاسب کے لیے سند تیار رہے اور بوقتِ ضرورت کام آئے۔

پردیس کے سندیس میں جن بے چھپر و دیوارجھونپڑیوں کا ذکر ہے، اس سے لگتا ہے کہ شاہ جی زمانہ قدیم سے محنت کشی کی ابتغاء و جستجو میں لگی حیاتِ طیبہ گزار رہے ہیں۔ جب ان سے استفسار کیا جائے تو اپنی تنگِ زیست و ناداری کی کہانی کچھ یوں بتاتے ہیں کہ ان کے برحق و بجا اور راست و روا ہونے کا گمان ہونے لگتا ہے۔ ان کا سنایا ہوا دکھڑا، کم از کم اتنا ضرور بتاتا ہے کہ اغیار کے ہاتھوں، گھر چھِننے کے بعد زمین کے ایک حصے میں کی گئی مشقت ایسی سچلتا ہوئی، کہ فرنگستان میں کٹیا اور جھونپڑیاں بنتی ہی چلی گئیں۔ یہ قہر زدہ بپتا سننے کے بعد، اب آپ ہی بتائیے، کیا میں اور آپ، جفا کشی اور جاں فشانی کے اس معیار پر ہزار سالوں تک پہنچے سکتے ہیں؟

کاغز کی وہ دھجی، شاہ جی کے مہان ہونے کا جتنا بڑا ثبوت دیتی ہے، اتنا ایک تلخ حقیقت کی طرف اشارہ بھی کرتی ہے کہ رعایا کو جمع جکڑی کا گُر ہی نہیں آتا۔ وہ اتنی سست الوجود، خمار آلود، بے ہمت اور سہل پسند ہے کہ الامان والحفیظ۔ آلکس  تو ان کی گھٹی میں یوں پڑی ہے کہ بقول اقبال

لہو مجھ کو رلاتی ہے، جوانوں کی تن آسانی

جَنتا خستگی کی علامت کچھ یوں بنی ہوئی ہے کہ ان میں شعوری کا بے دار ہونا ناممکن نظر آتا ہے۔ آگاہی و ادراک سے دور یہ مخلوق اس قدر تجاہل پیشہ ہے کہ اسکے لیے احمق و اَزبک، ابوجھ و اَبلہ، بودم بے دال اور بغلول و بوالفضول جیسے القابات کم پڑجاتے ہیں۔ ان کوڑھ مغز نادانوں کو کب پتہ چلے گا کہ وہ خط محض کاغز کا ٹکڑا ہی نہیں، بلکہ شاہ جی کے بدن سے نور کے پھوٹنے کا ذریعہ بھی ہے۔ اُن کے نقشِ قدم پر چلنے سے ہی اکتسابِ نور کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکتا ہے کیونکہ انہی کے دم سے فقر و فقیری کے سبق ملتے ہیں ۔

تحریر کے اختتام پر ایک ادنی سی عرض ہے کہ ہمیشہ پَتر پر نظر رکھیں- اسکا انتظار اتنی شدت سے کریں جتنا اپنے کسی پیارے کے گھر آنے کا کرتے ہیں۔ پدو پدوڑے بننے سے گریز کریں کیونکہ شاہ جی کی طرح  چھپر کے مستحق آپ بھی ہیں۔ شاید آپ کے نصیب میں بھی ایک پھوس کی جھونپڑی آجائے۔ بس اُس خط کو اور فیض کے ان الفاظ کو یاد رکھئیے

واپس نہیں پھیرا کوئی فرمان جنوں کا

تنہا نہیں لَوٹی کبھی آواز جرس کی

خیریتِ جاں، راحتِ تن، صحت داماں

سب بھول گئیں مصلحتیں اہلِ ہوس کی
____________________________

ٹویٹر پر اتباع کیجئیے

@periqlytos

___________________________

 پسِ تحریر: اس مقالے کا حالیہ پانامہ کیس سے کوئی تعلق نہیں۔ کسی بھی قسم کی مماثلت محض اتفاقیہ ہوسکتی ہے۔ تحریر کے مشکل ہونے کی وجہ پانامہ کے قضئیے کا دشوار گزار حد تک محال ہونا ہے۔ امید ہے میری یہ لغزش قابل معافی ہوگی۔ شکریہ

رومانیہ، سویل شہادہ اور پاکستانیوں کی غلط فہمیاں

رومانیہ، مشرقی یورپ کا ملک آج کل سیاسی چپقلش اور تنازعات کا شکار ہے۔ گرچہ اس کے حالات ملک خداد کی آپ بیتی سے کچھ مختلف نہیں، مگر میڈیا کی مہربانی سے اسکی خبر ملتی ہی نہیں۔ محض تین سے چار منٹ کی رپورٹ چلا کر اکتفاء کرلیا جاتا ہے۔ پچھلے کچھ دنوں سے رومانیہ ہمارے میڈیا میں دوبارہ زیر بحث ہے کیونکہ ایک مسلمان خاتون کی وزیر اعظم نامزدگی کو مسترد کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے ہمارے میڈیا اور سوشل میڈیا پر بیٹھے “اہلِ دانش” میں سراسیمگی کی کیفیت پائی جاتی ہے۔ میری ادنی سی کوشش ہوگی کہ رومانیہ کی حالیہ سیاسی تاریخ پر ایک سرسری نظر ڈالی جائے تاکہ اس ملک کے بارے میں غلط فہمیاں دور کی جاسکیں۔ 


رومانیہ میں سیاسی مسائل تو بہت رہے ہیں مگر حالات دگرگوں اس وقت ہوئے جب جون ۲۰۱۵ میں ان کے وزیر اعظم ویکٹر پونٹا پر ان کی قومی تحقیقاتی ایجنسی، ڈی این اے نے سنہ ۲۰۰۷ سے ۲۰۱۱ تک ٹیکس نادہندہ ہونے اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کا الزام لگایا۔ یہ اپنی نوعیت کا انوکھا کیس تھا جس میں کسی طاقتور شخصیت  پر براہ راست الزام لگا تھا۔ ڈی این اے، وزیراعظم کو گرفتار کرنا چاہتی تھی، مگر ان کی جماعت کی پارلیمنٹ میں اکثریت کی وجہ سے انہیں کسی بھی قانونی کارروائی سے مثتثنی قرار دے دیا گیا۔ 


ویکٹر پونٹا کی گرتی ساکھ کو آخری دھچکا اس وقت لگا جب ۳۰ اکتوبر ۲۰۱۵ کو دار الحکومت بوخاریسٹ کے ایک نائٹ کلب میں آتشزدگی کے دوران بھگدڑ مچ گئی جس کے نتیجے میں ۳۰ سے زائد افراد جھلس کر اور کچل کر ہلاک اور ۱۸۰ سے زائد زخمی ہوگئے۔ اس سے اگلے ہی دن عوام حکومت کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی۔ لگ بھگ، بیس ہزار لوگوں نے شہر بند کرکے قومی جھنڈوں میں سوراخ کردیے اور حکومت وقت کو “قاتل” اور “مافیا” جیسے القابات سے نوازا۔ چار دن کے مسلسل مظاہروں کے بعد وزیراعظم ویکٹر پونٹا اور وزیر داخلہ گابریل اوپریا سمیت تمام کابینہ مستعفی ہوگئی۔


حکومت کے چلے جانے کے باوجود عوام کا غصہ ٹھنڈا نہ ہوا اور انہوں نے فوری انتخابات کا مطالبہ کردیا۔ اس کی تائید ہمسایہ ملک بلغاریہ، فرانس اور برطانیہ میں رہنے والے تارکین وطن نے بھی کردی۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مظاہرین کی ایک بہت بڑی تعداد نوجوانوں کی بھی تھی جس نے اس اندوہناک حادثے کو اپنے اوپر حملہ قرار دیا تھا۔


صدر کلاوس اوہانیس (پہلی تصویر) نے حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ایک ٹیکنوکریٹ، داسیان سیولوس (دوسری تصویر) کو وزیراعظم نامزد تو کردیا۔ مگر عوام کے غیظ و غضب پر قابو نہ پا سکی۔ 

کرپشن پر عدم برداشت کا وعدہ کرتے ہوئے رومانیہ میں تمام سیاسی جماعتیں ۱۱ دسمبر ۲۰۱۶ کو پارلیمانی انتخابات کے لیے آمنے سامنے آئیں۔ اس میں بائیں بازو کی سوشل ڈیموکریٹس کے امیدوار لیویو دراگنیا نے واضح اکثریت حاصل کی۔ تاہم انہیں اندازہ نہیں تھا کہ 2012 کے انتخابات میں بے ضابطگیوں پر انہیں نا اہل قرار دیا گیا تھا۔ لہذا اس انتخابات میں ان کی اہلیت چیلنج ہوگئی۔ یہی وجہ ہے کہ سوشل ڈیموکریٹس نے ایک ترک، تاتاری مسلم خاتون، سویل شہادہ کو نامزد کیا۔ مگر ان کی نامزدگی پر بھی سوالات اٹھ گئے۔ اسکی دو وجوہات بنیں۔ ایک؛ مسز شہادہ کا سیاسی تجربہ صرف چھے ماہ ہے، جس میں وہ ویکٹر پونٹا کی حکومت میں رہیں۔ دوسرا، ان کے شوہر، اکرم شہادہ بزنس میں ہیں اور شامی صدر، بشار الاسد کی کابینہ میں مشیر برائے زراعت رہے ہیں۔

مسز شہادہ کے مذہب سے رومانیہ کے لوگوں کو کوئی دلچسپی تھی اور نہ ہی کسی نے اس پر کوئی سوال اٹھایا۔ مگر بدقسمتی سے پاکستانی میڈیا کے کچھ لوگوں نے بغیر سوچے سمجھے، مسز شہادہ کی عدم نامزدگی کو اسلام دشمنی کا لیبل دے دیا۔ ان کی خدمت میں ایک ہی عرض ہے؛ خدارا ہوش کے ناخن لیں۔ رومانیہ، یورپ کا سب سے غریب ملک ہے۔ اسکے لوگ ہمارے لوگوں کی طرح غریب اور ان کی اشرافیہ، ہماری اشرافیہ کی طرح امیر کبیر۔ از راہِ کرم، بین الاقوامی خبروں کا مطالعہ کریں،  رومانیہ کے کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں سفارت خانے سے رابطہ کریں تاکہ آپ کے سامنے کچھ حقائق آسکیں۔ مگر یہ کیونکر ہو۔ جہاں وزارت خارجہ اس قدر غیر فعال ہے کہ ملکی میڈیا کو رومانیا کے ساتھ دفاعی تعلقات کے بارے میں بریفنگ ہی نہ دی گئی۔

ریڈیو پاکستان کا قوم پر اتنا احسان ضرور ہے کہ اس نے یہ بتانا گوارا کیا کہ میاں نواز شریف، بوسنیا کے حالیہ دورے کے بعد رومانیا رکے تھے۔

اخیراً، ایک مختصر سی عرض کروں گا کہ جہاں دنیا بھر میں ممالک مفادات کے لیے قریب آ رہے ہیں، وہاں سوشل میڈیا پر چلتی من گھڑت خبروں (فیک نیوز) کا دور دورہ بھی ہے۔ خبر پر مکمل تحقیق، وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مذہبی تعصب کے بھیس میں کوئی من گھڑت خبر دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات پر ضرب  لگادے۔ سورة الحجرات کی چھٹی آیت ہی سبق کے لیے کافی ہے۔

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ

اے لوگو، جو ایمان لائے ہو! اگر کوئی فاسق تمہیں خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لو۔ ایسا نہ ہو کہ نادانی میں کسی قوم (یا گروہ کو) کو ایذا پہنچا بیٹھو پھر اپنے ہی کیے پر پشیمانی اٹھاؤ۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ٹویٹر پر اتباع کریں

@periqlytos

What did I Learn From Crisis in Brazil?

Brazil, the biggest country in Latin America, has been rocked by political scandals. President Dilma Rouseff has stepped aside by giving her position to Vice President Michel Temer, till the investigations against her are finalized.

The stories of corruption are not strange in Brazil but the political fiasco made global headlines when former President, Luiz Inacio Lula Da Silva was detained for questioning. He was accused of bribery and corruption in State-Owned Petroleo Brasileiro (Petrobras) during his time in office (2003-2010). Da Silva was accused of money laundering and using offshore companies to buy beachfront properties in Sao Paolo as well as use Mossack Fonseca’s office in Brasilia to hide the ownership of ill gotten assets.

The political controversy did not end there. In 2011, when Dilma Rouseff was chairwoman of Petrobras, Nestor Cervero, the company’s Director of International Operations, laundered money to buy expensive properties in Rio De Janeiro. He also gave bribes to Speaker of the Congress, Eduardo Cunha who also belonged to Democratic Movement (PMDB), the opposition party. Money was also funneled in the party’s account by Lobbyist Fernando Soares. In August of 2015, both Cervero and Soares were found guilty of money laundering and are currently facing prison sentences of 12 and 16 years respectively.

Cunha, who was leading the struggle to root out corruption from the country and remove President Rouseff, was exposed in 2015 by Swiss authorities. It was reported that he and his family members had secret bank accounts that were not disclosed to Brazilian authorities. Things took a turn to worst when Panama Papers named him as a beneficiary of the bribes paid by offshore companies in British Virgin Islands. These were owned by Portugese businessman Idalecio de Castro Rodrigues de Oliveira. His company partnered with Petrobras and channeled money into Cunha’s accounts in Panama and Switzerland.

The case caused a lot of stir and was called “Operação Lava Jato”, Portugese term for “Operation Car Wash”. It resulted in arrests of high profile politicians namely Fernando Collor de Mello, (Another Former President of Brazil), Treasurer of ruling party, João Vaccari Neto and former Mines and Energy Minister, Edison Lobão. This case of high eminence was presided by Justice Sérgio Moro, who has now become a national hero.

Justice Moro tried to get Luiz da Silva arrested but failed to do so. In March, President Rouseff used the constitution to appoint her predecessor as chief of staff of Brazil, so he could claim immunity and escape the charges. But Justice Moro effectively stopped it by releasing the telephonic conversations between Rouseff, da Silva and other judges. Some criticized this move while others hailed it and celebrated around the nation.

The Parliament, which was in deep slumber finally woke up when on May 5th, Prosecutor General, Rodrigo Janot took an extraordinary step by suspending speaker Eduardo Cunha from his position as he may face charges similar to Rouseff and da Silva. He is also being investigated for abuse of power, intimidating and threatening lawmakers and obstruction of justice. He could face impeachment and even jail time, if convicted in the court of law.

The political situation in Brazil is bad to the extent that one of the founders of Workers Party, (ruling Party) 93 year old Helio Bicudo, expressed his disappointment in these words;
“The Workers Party was a party of hope, but its leaders got intoxicated by power, and now that hope has been dashed”.

Brazil has taken a risky path. With Summer Olympics around the corner, epidemic of Zika virus combined with political turmoil, things will not be easy any time soon. Bringing the corrupt to justice will be a key to attract foreign investments which are in record decline. Unless the judiciary takes extreme steps by bringing the ill gotten wealth back, Brazil’s economy will be in a constant state of slump. All three branches of the government should come up with a  temporary solution till the end of Summer Olympics. Better financial system will have an effect on neighboring Venezuela, Colombia, Bolivia, Uruguay and other countries Brazil shares its border with.

The crisis in Brazil has taught me a lesson. Two people, Rodrigo Janot and Justice Sérgio Moro, took a bold initiative by standing up to those who are hell bent in destroying the country. They want to see their country prosper and blossom on the map of the world. Through their actions, they are proving that justice is the key to progress and development. I expect the attorney general of Pakistan, Mr Ashtar Ausaf and Justice Anwar Zaheer Jamali to take a firm stand against corruption and take the judiciary on board. Our esteemed judicial system takes actions on non issues. For once, I expect them to take the untouchables to task. With accountability, they can take the nation forward, else an unending cycle of favoritism towards them will maintain their villainy towards the citizens.

 


 

follow me on twitter: periqlytos